خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 142

$1950 142 خطبات محمود نے اپنی سواری لی اور اُسے اس تیزی کے ساتھ دوڑاتے ہوئے یہاں پہنچا۔اب میں موجود ہوں جو فیصلہ ہے اس کی تعمیل کی جائے۔ان دونوں واقعات کا یعنی اس صحابی کا ضمانت پیش کرنا اور قاتل کا عین وقت پر حاضر ہو جانا ان لوگوں پر جن کا آدمی مارا گیا تھا اتنا گہرا اثر ہوا کہ انہوں نے کھڑے ہو کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم اس کا خون معاف کرتے ہیں۔اور اسلام میں یہ جائز ہے کہ مقتول کے ورثاء اگر چاہیں تو قاتل کو معاف کر دیں۔اس صورت میں اسے قتل کی سزا نہیں دی جا سکتی۔بہر حال اس کی بات کو دیکھ کر اگر یہ شخص نہ آتا تو ایک صحابی مارا جاتا اور اگر قتل کرنے والا شخص خود نہ آتا تو اس کو کوئی ہے گرفتار نہ کر سکتا۔مقتول کے رشتہ داروں پر اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے شخص کو مروانا دنیا کا نقصان سمجھتے ہیں ہم اپنا خون اسے معاف کرتے ہیں۔تو دیکھو سچائی طبائع پر کتنا گہرا اثر کرتی ہے اور کسی طرح وہ غیر معمولی نتائج پیدا کر دیا کرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے آپ نے اپنا ایک مضمون اشاعت کے لئے پریس میں بھجوایا اور مسودہ کے ساتھ ہی ایک خط بھی لکھ دیا کہ اس مضمون کو اس اس طرح چھاپا جائے۔اُس زمانہ میں کسی پیکٹ کے اندر خط بھجوا ناڈاکخانہ کے قواعد کے مطابق جرم سمجھا جاتا تھا اور لکھنے والے کو قید کی سزا بھی ملا کرتی تھی۔وہ مضمون جس شخص کو بھجوایا گیا تھا وہ عیسائی تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عِنا درکھتا تھا۔جب اُسے مضمون پہنچا اور مضمون کے اندر ہی اُس نے خط لکھا ہوا دیکھا تو اُس نے گورنمنٹ کو رپورٹ کی کہ اس اس طرح مجھے پارسل میں خط موصول ہوا ہے اور یہ قواعد کے مطابق مُجرم ہے۔گورنمنٹ نے بھی اس کو اتنی اہمیت دی کہ اس نے ایک انگریز بیرسٹر اپنی طرف سے پیروی کرنے کے لئے بھجوایا اور اس نے بڑے زور کے ساتھ یہ معاملہ پیش کیا کہ ایسے شخص کو ضرور سزاملنی چاہیے تا کہ باقی لوگ بھی ڈر کر اس قسم کا جرم کرنا چھوڑ دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جو وکیل تھے انہوں نے آپ سے کہا کہ یہ تو بات ہی کچھ نہیں اس عیسائی نے خود آپ کے پارسل کو کھولا ہے آپ کہ دیں کہ میں نے پارسل میں کوئی خط نہیں ڈالا بلکہ علیحدہ خط لکھا تھا جسے اس نے پارسل میں سے نکلا ہوا ظاہر کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میں نے خط ڈالا تھا۔اس نے کہا یہ سوال ہی نہیں کہ آپ نے خط ڈالا تھا یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ اس قسم کے بیان سے آپ پھنستے ہیں۔لیکن اگر آپ کہہ دیں کہ میں نے خط نہیں ڈالا تو اُس کے پاس اس بات کو ثابت کرنے کی