خطبات محمود (جلد 31) — Page 140
$1950 140 خطبات محمود افراد اور دوسرے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔مگر احمدیت تو خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ ہے۔اس میں جھوٹ کی ایک شاخ اور ایک پتا بنانا بھی ناجائز ہے بلکہ پتا تو الگ رہا وہ بار یک بار یک تاریں اور دھاریاں جو پتوں میں پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک تاریا ایک دھاری بنانا بھی جائز نہیں اور مومن کا فرض ہے کہ خواہ جان چلی جائے وہ جھوٹ کے قریب نہ جائے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک شخص کہیں باہر سے مدینہ آیا اور لڑائی میں اُس سے ایک آدمی مارا گیا۔مقدمہ عدالت میں گیا اور اس نے اقرار کیا کہ بات ٹھیک ہے واقع میں مجھ سے قتل ہوا ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ قتل کے بدلہ میں اُسے قتل کیا جائے۔چونکہ وہ باہر کا آدمی تھا اور مد بینہ اپنے کسی کام کے سلسلہ میں آیا ہوا تھا کہ فساد ہو گیا اور اس سے ایک شخص مارا گیا اس لئے جب اُس کے قتل کا فیصلہ ہوا تو اُس نے کہا میری ایک عرض ہے اور وہ یہ کہ میری قوم مجھ پر بڑا اعتبار کرتی ہے۔میں یہاں تجارت کے لئے آیا تھا اور مجھے پتہ نہیں تھا کہ مجھ سے یہ واقعہ سرزد ہو جائے گا۔میرے پاس اپنی قوم کے یتامی اور بیوگان کی بہت سی امانتیں پڑی ہوئی ہیں اور وہ میں نے زمین میں دبا رکھی ہیں۔اگر میں یہیں رہا تو وہ امانتیں ضائع ہو جائیں گی اور بیتامی اور بیوگان کو سخت نقصان پہنچے گا۔میری درخواست یہ ہے کہ آپ مجھے اتنی اجازت دے دیں کہ میں واپس جا کر امانتیں ان کے مالکوں کے سپرد کر سکوں۔اس کے بعد میں اپنی سزا کے لئے یہاں حاضر ہو جاؤں گا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اُس سے پوچھا کہ تمہاری ضمانت کون دے گا ؟ تم بدوی آدمی ہو ہمیں کیا پتہ کہ تم واپس بھی آؤ گے یا نہیں؟ جب تک تم ضمانت نہ دو تمہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اس نے کہا میں تو مسافر ہوں اور میری یہاں کوئی واقفیت نہیں۔آپ نے فرمایا کہ ضامن تو بہر حال دینا پڑے گا اس کے بغیر تمہاری واپسی کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔اس نے ادھر اُدھر دیکھا اور ایک صحابی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ میرے ضامن ہیں۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس صحابی سے پوچھا کہ کیا پ ضمانت دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں میں اس کا ضامن ہوں۔آپ نے اسے چھٹی دے دی اور وہ چلا گیا۔جب وہ آخری دن آیا جس میں اُسے واپس پہنچ جانا چاہئے تھا تو تمام لوگ اُس کا انتظار کرنے لگے۔مدعی جن کا رشتہ دار مارا گیا تھا وہ بھی موجود تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ بھی موجود تھے اور سب اس کا انتظار کر رہے تھے۔مگر وقت گزرتا گیا اور اس کا کہیں پتہ نہ چلا۔