خطبات محمود (جلد 31) — Page 117
1950ء 117 خطبات محمود زیب دیتے ہیں۔ ایک عمر ایسی ہوتی ہے کہ اس میں انسان کو خدائی قانون کے سامنے سرتسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ جہاں تک احباب کی خواہش تھی یہ اچھی چیز ہے۔ لیکن جس رنگ میں بعض روایتیں مجھے پہنچی ہیں اور پھر اپنے ملک کی عام ذہنیت جو میں جانتا ہوں اُس کو مد نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ دوستوں کی افسردگی میں کچھ اس بات کا بھی دخل تھا کہ جو کھانے انہوں نے پکائے تھے وہ ضائع چلے گئے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام نے اس کے متعلق بھی بحث کی ہے۔ اسلام نے بعض احکام ایسے دیئے ہیں جو بظاہر چیز کے ضائع کرنے والے ہیں لیکن ثواب حاصل کرنے کے لئے انہیں فرض قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً حج کے موقع پر جوقربانی ہوتی ہے وہ بھی بظاہر ضائع ہوتی ہے۔ اب تو وہاں لوگ کثرت سے جاتے ہیں اور قربانیوں کا ایک حصہ ان کے استعمال میں آ جاتا ہے لیکن اس سے قبل کسی زمانہ میں گوشت کھانے والے وہاں کم تعداد میں ہوتے تھے اور قربانی کا رواج زیادہ تھا۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کے لئے تشریف لے گئے تو آپ کے ہمراہ ہزاروں قربانیاں تھیں اور انہیں کھانے والے کوئی نہیں تھے۔ فرض کرو ایک بکرے میں بیس سیر گوشت ہو، ایک گائے میں دو من گوشت ہو اور ایک اونٹ کے اندر پانچ سات من گوشت ہو تو ہزاروں قربانیوں کے نتیجہ میں کتنا گوشت ضائع ہوتا ہوگا ۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ ہر شخص ایک سیر گوشت کھائے اگر چہ ہر شخص ایک سیر گوشت نہیں کھا سکتا کیونکہ بعض بچے اور عورتیں بھی ہوتی ہیں وہ کم کھاتے ہیں لیکن اگر ایک سیر گوشت فی کس بھی رکھ لیں تو اس کے یہ معنے ہیں کہ ایک اونٹ ذبح ہوا تو دوسو افراد نے کھایا۔ اب اگر دس افراد میں سے ایک نے قربانی کی ہو تو صرف بیس فیصدی گوشت کام آتا ہے باقی سب ضائع چلا جاتا ہے۔ میں نے جب حج کیا تو میں نے سات دنبے ذبح کروائے تھے ۔ ان میں سے ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تھا، ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے تھا، ایک حضرت خلیفہ مسیح الاول کی طرف سے تھا، ایک حضرت اماں جان کی طرف سے تھا اور ایک ساری جماعت کی طرف سے تھا۔ گل سات دنبے تھے جو ذبح کروائے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ قصاب ابھی چُھری اُس کی گردن سے ہٹاتا ہی تھا کہ یکدم دنبہ غائب ہو جاتا تھا۔ ادھر چھری ہٹائی اور اُدھر بدوی لوگوں نے دینے کی ٹانگ پکڑی اور اُسے گھسیٹ کر لے گئے۔ لیکن اس پر کوئی جھگڑا نہیں ہوتا تھا۔ وہ قہقہے لگاتے جاتے تھے۔ کیونکہ اُس علاقہ میں حج کے دنوں میں گوشت کی کوئی قیمت نہیں سمجھی جاتی۔ اس طرح ہمارے تین دنبے