خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 118

$1950 118 خطبات محمود ضائع ہو گئے۔ہمارے ساتھ عبدالحی صاحب عرب بھی تھے چوتھے دنبے پر ہم نے انہیں بٹھا دیا لیکن کی غائب کرنے والے چونکہ زیادہ ہوتے تھے اس لئے اگر ہم نہ ہوتے تو شاید ان کو بھی آدمی گھسیٹ لے جاتے۔غرض وہاں گوشت کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔وہ بالعموم ضائع چلا جاتا ہے۔لیکن قربانی حج کے فریضہ کا ایک حصہ ہے۔جس سے اسلام نے ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ دین کے لئے بعض وقت اموال کا ضیاع بھی کرنا پڑتا ہے۔جب تک ضیاع نہ کیا جائے اُس وقت تک تو میں بچ نہیں سکتیں۔پس اگر ہم زیارت چلے جاتے تو احباب کو یہ ثواب تو ضرور ہوتا کہ انہوں نے ہماری خاطر کی اور مہمان نوازی سے کام لیا۔لیکن ہمارے زیارت جانے کی وجہ سے جو انہیں ثواب ہوتا وہ اُس ثواب کے برابر نہیں جو ہمارے نہ جانے کی وجہ سے انہیں ہوا۔گو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اُن کے افسوس کے بعد اب اتنا نہیں رہا جو اُن کے اس نکتہ کے سمجھ لینے پر ہونا تھا۔دنیا میں جتنی قومیں ترقی کرتی ہیں انہیں اپنی طاقت کا ایک حصہ ضائع کرنا پڑتا ہے۔مثلاً فوج ہے عم بعض دفعہ ایک سپاہی فوج میں داخل ہوتا ہے اور ریٹائر ہو جاتا ہے لیکن اُسے لڑنے کا موقع نہیں ملتا گویا می اُس پر جو روپیہ خرچ ہوا وہ ضائع چلا گیا۔لیکن اگر حکومت ایسا نہ کرے تو تباہ ہو جائے۔پس جس طرح دنیوی کاموں میں طاقت کے ایک حصہ کا ضیاع اہمیت رکھتا ہے اسی طرح دینی کاموں میں بھی طاقت کے ایک حصہ کا ضیاع بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔اگر لوگ ضیاع سے بچنے کی کوشش کریں تو اُن کی مہمان نوازی اتنے نچلے درجہ پر آجاتی ہے کہ اس کی حد نہیں۔مثلاً ہمارا پنجاب ہے میں یہ نہیں کہتا کہ پنجابی مہمان نواز نہیں ہوتے لیکن صوبہ سرحد کی نسبت پنجابی کم مہمان نواز ہوتے ہیں۔پنجاب میں لوگ خیال کرتے ہیں کہ اگر کوئی دعوت میں نہ آیا تو کھانا ضائع ہو جائے گا۔اس لئے بالعموم وہ اس طرح کرتے ہیں کہ ادھر مہمان آیا اور اُدھر اُس کے لئے کھانا تیار کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے مہمان کو ی م کھانے کے لئے کافی انتظار کرنا پڑتا ہے۔حالانکہ ضائع ہونے والی چیز میں زیادہ ثواب ہوتا ہے۔چیز کے ضائع کرنے سے اسلام نے وہاں منع کیا ہے جہاں ضیاع عقل کے خلاف ہو۔اور جہاں ضیاع عقل کے مطابق ہو وہاں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہمیں زیادہ ثواب دینے کا ہے۔اس بارہ میں تم جتنی منطق استعمال کرو گے اُتنی ہی تمہاری روحانیت کم ہو جائے گی۔اور جتنی منطق تم کم استعمال کرو گے اُتنی ہی تمہاری روحانیت زیادہ ہوگی اور ثواب زیادہ ہوگا۔زیارت نہ جانے کا مجھے تو افسوس کیا ہونا تھا شاید عورتوں اور بچوں کو افسوس ہو لیکن آپ لوگوں کے لئے افسوس کا کوئی مقام نہیں۔آپ کو ایک