خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 113

$1950 113 خطبات محمود م بے وطن ہونا پڑتا ہے تو اس کے لئے تیار ہونا تو الگ رہا وہ ایسے مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے کہ لوگ اس کی جی جان لیں ، لوگ اسے بے وطن کر دیں تو یہ نبوت کا مقام ہوتا ہے۔کیونکہ نبی اکیلا ہی دشمن کے مقابلہ میں کھڑا ہو جاتا ہے۔اور یہ صاف بات ہے کہ اس طرح وہ اپنے عمل سے دشمن کو یہ دعوت دیتا ہے کہ آ اور مجھے مار۔یا مجھے میرے وطن سے نکال دے اور یہی نبوت کا مقام ہے۔حضرت ابوبکر صدیق نے کفر کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آواز اٹھائی تھی ورنہ سب سے پہلے جس نے تمام لوگوں کو پھیلنج دیا تھا اور ان کی مرضی کے خلاف چلا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔حضرت ابو بکر دیکھتے تھے کہ آپ کیا کرتے ہیں تا وہ اسے دہرائیں۔گویا ابتدا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے اور حضرت ابو بکڑا سے دہراتے تھے۔گویا جو ابتدا کرتا ہے وہ رسول ہے اور جود ہراتا ہے وہ صدیق ہے۔بچپن میں ہم پڑھا کرتے تھے کہ جب بادل آتے ہیں اور گرجنے لگتے ہیں تو پانی کے قطرات نیچے م گرنے سے ہچکچاتے ہیں۔آخر ایک قطرہ جرات کرتا ہے اور نیچے گو دکر فنا ہو جاتا ہے۔تب اسے دیکھ کر باقی قطرات بھی تیار ہو جاتے ہیں اور یکے بعد دیگرے نیچے کود پڑتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ فطرت انسانی ہر اچھے کام کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔لیکن بعض کام اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ ان کے لئے کسی نہ کسی کو نمونہ پیش کرنا پڑتا ہے اور جو نمونہ پیش کرتا ہے وہی مستحق ہوتا ہے کہ اسے لیڈر بنایا جائے۔کیونکہ اس نے اپنے آپ کو نہ صرف قربانی کے لئے تیار رکھا بلکہ اس نے قربانی کا نمونہ پیش کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ صدیقیت در حقیقت نبوت کے ہی ایک ٹکڑے کا نام ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ نبی پہلے گو د پڑتا ہے اور صدیق پیچھے گو دتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ وہابیوں اور حنفیوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔حضرت خلیفہ اول اُن دنوں اپنے آپ کو وہابی کہا کرتے تھے۔کیونکہ ابھی احمدی کے لفظ کا استعمال نہیں ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا کہ اس جھگڑے سے حضرت خلیفہ اول کو تکلیف ہوئی ہے۔آپ نے فرمایا مولوی صاحب! آپ ایک اشتہار لکھیں کہ اس جھگڑے سے کیا فائدہ ہے۔حضرت امام ابوحنیفہ کا یہ اعتقاد تھا کہ سب سے مقدم قرآن کریم ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں۔اور اگر ان دونوں سے کوئی بات حل نہ ہو تو پھر عقل اور اجتہاد سے کام لیا جائے اور یہی ہمارا عقیدہ ہے۔اس لحاظ سے تو وہ بھی حنفی ہی ہیں پھر جھگڑا کیا۔حضرت خلیفہ اول نے اشتہار کا مضمون لکھا