خطبات محمود (جلد 31) — Page 114
$1950 114 خطبات محمود اور اس کے نیچے لکھ دیا یومے سجاده رنگین کن گرت پیر مغاں گوید یعنی چونکہ یہ حکم تھا اس لئے میں نے یہ اشتہار دے دیا ہے اور پھر دواشتہار چھپوا کر ان کی ایک کاپی آپ کی خدمت میں بھجوادی۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں قادیان آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بغیر کسی تمہید کے مجھے فرمانے لگے مولوی صاحب! ایمان کے لحاظ سے کس چیز کو مقدم رکھنا چاہیے؟ آپ نے کہا قرآن کریم کو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اس کے بعد دوسری چیز کونسی ہے جس کو مقدم رکھنا چاہیے؟ آپ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا اگر ان دونوں سے بھی کوئی بات نہ ملے تو کیا کیا جائے؟ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کی اگران دونوں سے کوئی بات نہ ملے تو خدا تعالیٰ نے جو عقل بخشی ہے وہ اس سے کام لے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہی حقیقت ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول فرماتے تھے اس پر مجھے وہ اشتہار یاد آ گیا اور میں اپنے آخری فقرہ پر نادم ہوا۔- حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے جو چاروں مقامات ہیں یہ سارے کے سارے قابلِ فخر ہیں۔لیکن جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے آپ کو پہلے پیش کر دیتا ہے خدا تعالیٰ اُس کو بلند مقام عطا کرتا ہے۔ورنہ ظاہری قربانیوں کے لحاظ سے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ دونوں نے قربانیاں کیں۔لیکن بچوں کے خلاف سب سے پہلے جس شخص نے آواز بلند کی وہ صرف رسول کریمی صلی اللہ علیہ وسلم کاہی وجود تھا۔صحابہ نے آپ کی صرف نقل کی اور آپ کی آواز کے پیچھے اپنی آواز بلند کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا ہے کہ در کوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کے کہ لاف تعشق زند منم 6 یعنی اگر تیرے کوچہ میں مارے جانے کا سوال پیش آ جائے تو اس کے لئے سب سے پہلے میری آواز ہی اٹھے گی۔یہی چیز ہے جو وَلَهَدَيْنَهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا میں بیان کی گئی ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ تم اپنے آپ کو ایسے مقام پر لے آؤ کہ لوگ تمہیں قتل کر دیں یا تمہیں ملک بدر کر دیں۔چنانچہ فرماتا ہے اگر ہم ان پر یہ بات فرض کر دیتے کہ وہ اپنے نفوس کو قتل کریں یا بے وطن ہو جائیں تو وہ