خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 96

خطبات محمود سوال ہی نہیں رہتا۔ 96 1950ء حقیقت یہ ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی صداقتیں ہیں۔ اگر انسان انہیں مان لے تو بغض اور کینہ خود بخود نکل جاتا ہے۔ ہماری مخالفت بھی زیادہ تر وفات مسیح وغیرہ عقائد کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ لوگوں میں ضد کی عادت ہے۔ جب اُن کے سامنے کوئی سچائی پیش کرو تو وہ کہتے ہیں ہم اپنے عالم کی بات مانیں گے ان کی بات کیوں مانیں۔ پھر احمدی ہو کر چندہ دینا پڑتا ہے لیکن وہ اس کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ اسی طرح انہیں رسم و رواج پر روپیہ خرچ کرنے کی عادت ہوتی ہے لیکن جب احمدی ہو جائیں تو انہیں خدا کی راہ میں خرچ کرنا پڑتا ہے۔ دین کے لئے خرچ کرنا پڑتا ہے اور یہ چیز ان کی طبیعت کے موافق نہیں ہوتی ۔ پھر لوگوں میں نفاق کی عادت ہوتی ہے۔ انہیں کوئی شیعہ مل جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ سُبْحَانَ اللهِ ! بھلا حضرت علیؓ سے بڑا کون ہو سکتا ہے۔ اور اگر کوئی سنی مل گیا تو کہہ دیا شیعہ بہت بُرے ہوتے ہیں وہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر ایمان نہیں لاتے۔ غرض وہ ہر ایک کو خوش کرنے کی کوشش کریں گے اور اس سے آگے قدم نہیں بڑھائیں گے۔ کسی احمدی کو ملیں گے تو کہیں گے سُبْحَانَ اللهِ مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خدمت کی ہے۔ اور جب دوسرے لوگ ملیں گے تو کہیں گے احمدی بہت برے ہیں ۔ پھر مثلاً انگریز آجائیں تو اُن کی ہاں میں ہاں ملا دیں گے اور بعد میں انہیں برا بھلا کہتے پھریں گے۔ یہ چیزیں ہیں جو صداقت کے قبول کرنے میں روک بن رہی ہیں۔ اگر یہ روکیں ہٹ جائیں تو احمدیت قبول کرنے میں دقت ہی کونسی رہ جاتی ہے۔ عقا ئد سب روشن ہیں۔ چیز صرف یہی ہے کہ لوگوں میں قربانی کا مادہ نہیں پایا جاتا۔ پھر ان میں ڈرنے کی عادت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہودیوں کے کچھ سردار آپ کے پاس آئے۔ جب واپس گئے تو ایک بھائی نے دوسرے سے پوچھا بھائی ! آپ کا اس شخص کے متعلق کیا خیال ہے؟ اس نے کہا باتیں تو سب سچی ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئیاں بھی سچی معلوم ہوتی ہیں مگر (گلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ) اس کی تعلیم صرف یہاں تک جاتی ہے نیچے نہیں جاتی ۔ اُس نے کہا پھر تمہاری کیا صلاح ہے؟ اس نے کہا جب تک جان میں جان ہے ایمان نہیں لاؤں گا۔ بھلا میں اپنی قوم کو کس طرح چھوڑ دوں ۔ دوسرے نے کہا میرا بھی یہی خیال ہے۔ آپ کی مجلس میں وہ آپ کی صداقت کا اقرار کر رہے تھے لیکن باہر نکلے تو انکار کر دیا۔ ایک صحابی کہتے ہیں میں اُن کے پیچھے پیچھے آرہا