خطبات محمود (جلد 31) — Page 69
$1950 69 خطبات محمود جھوٹوں کو کوئی سزا بھی نہ دیں۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو یہ سوال انتظامی نہیں رہے گا بلکہ سیاسی ہو جائے گا اور انہیں اپنا دامن چھڑوانا مشکل ہو جائے گا۔پس اُن کا انصاف نصف کا راستہ تک چل کر کھڑا ہو جاتا ہے۔گزشتہ دنوں بعض افسروں نے سرکلر جاری کیا تھا کہ اُن کے محکمہ کے تمام ملازم یہ فارم پُر کر کے بھجوائیں کہ وہ کس کس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور احمدی ہونے کی صورت میں یہ بھی لکھیں کہ قادیانی احمدی یا لا ہوری احمدی۔اس سرکلر کی عبارت ظاہر کرتی ہے کہ اس سے کوئی نیا فتنہ کھڑا کر نا مقصود تھا۔بعض غیر احمدی اخباروں نے بھی اس پر نوٹس لیا اور لکھا کہ اس تجویز سے صاف پتہ لگتا ہے کہ بعض فرقوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا مقصود ہے۔کسی فرد کے خلاف بے شک کارروائی کی جائے اس میں ہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔لیکن اگر کسی فرد کے خلاف کارروائی کرنا مقصود ہے تو پھر اُس کے فرقہ سے کیا ت مطلب؟ وہ خواہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہوا گر وہ مجرم ہے تو آپ اُس کے خلاف کارروائی کریں۔لیکن پہلے یہ دریافت کرنا کہ تمہارا فرقہ کونسا ہے اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ کسی فرد کی شرارت کی وجہ سے اُس کے خلاف کارروائی کرنا مقصود نہیں بلکہ کسی خاص فرقہ میں ہونے کی وجہ سے اُس کے خلاف کوئی شرارت کرنا مقصود ہے۔ان واقعات کو دیکھتے ہوئے ہماری جماعت کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے اندر ایک بیداری پیدا کر لیتی اور اس آدمی کی مانند جو آتش فشاں پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا ہوتا ہے اپنے آپ کو تیار کر لیتی۔خواہ کوئی دوبارہ غلط ڈائری لکھ لے اور گورنمنٹ کے پاس جھوٹی رپورٹ کر دے۔واقعہ یہی ہے کہ تبلیغ کے بغیر ہمیں چارہ نہیں۔( مگر اپنے رسوخ سے کام لے کر تبلیغ کرنا یا جبر کرنا یہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔یہ اُسی جھوٹے ڈائری نولیس کے مذہب میں جائز ہے جو اپنے سے مختلف خیال رکھنے والے کو جبرا اپنے مذہب میں لانا جائز سمجھتا ہے۔اُس ڈائری نولیس کو ہمارے آئینہ میں صرف اپنی شکل نظر آتی ہے اور کچھ بھی نہیں ) پس ایک طرف تبلیغ کرنی چاہیے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ سے دعا ئیں مانگنی چاہئیں۔تبھی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔تبلیغ تمہاری تعداد کو بڑھائے گی اور دعائیں خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچیں گی۔تبلیغ سے ہر درجہ اور حلقہ کے لوگ احمدی ہوں گے یا پھر انہیں کم از کم یہ پتہ لگ جائے گا کہ احمدی کیسے ہوتے ہیں۔بے شک وہ احمدی نہ ہوں لیکن انہیں یہ تو پتہ لگ جائے گا کہ احمدیت کی تعلیم کیا ہے۔اور جب انہیں احمدیت کی تعلیم کا پتہ لگ جائے گا