خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 68

$1950 68 خطبات محمود بعض دفعہ سارا شہر اُس سے ڈرتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اُسے اپنی جان اور عزت کی کوئی پروا نہیں۔اور جگہوں کو تو جانے دو اسی جگہ پر جب میں نے تقریر میں کہا کہ اگر تم تبلیغ کرو تو بلوچستان جیسے چھوٹے سے صوبے کو احمدی بنالینا کوئی مشکل امر نہیں تو پولیس کے بعض نمائندوں نے کتنا جھوٹ بولا۔انہوں نے گورنمنٹ کے پاس ڈائریاں بھیجیں اور اُن کی نقل دوسرے صوبہ جات میں بھی بھجوائی گئی کہ امام جماعت احمدیہ نے تقریر کی ہے کہ گورنمنٹ کے محکموں میں جو بڑے بڑے احمدی افسر ہیں وہ اپنے ماتحتوں کو مجبور کر کے احمدی بنا ئیں۔اور اگر وہ احمدی نہ ہوں تو انہیں دق کر کے محکمے سے نکال دیں۔اس قسم کی ڈائریوں تک ہی بس نہیں کی گئی فوجی حکام کو بھی ورغلانے کی کوشش کی گئی کہ اُنہوں نے کیا کارروائی احمدی افسروں کے خلاف کی ہے۔مگر جس طرح سول میں اچھے افسر بھی ہیں اسی طرح فوج میں بھی شریف افسر ہیں۔اُن افسروں نے ان رپورٹوں پر کوئی توجہ نہ دی اور کہہ دیا کہ فوج میں امن ہے ہم ایسی تحریروں پر کارروائی کر کے خود فساد پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ہمارے دشمن جب اس کارروائی میں ناکام رہے تو انہوں نے پہلے افسروں پر جو بالا افسر تھے اُن کے پاس رپورٹیں کروا ئیں۔مگر اُن کی طرف سے بھی یہ جواب دیا گیا کہ کوئی فساد بھی نظر آئے تو کسی کے خلاف کارروائی کی جائے۔جب فساد ہے ہی نہیں تو ہم خود فساد کیوں پیدا کریں۔ہاں اگر فساد پیدا کروانا ہے تو اور بات ہے۔مجھے ایک احمدی افسر نے بتایا کہ جب یہ ڈائری میرے پاس پہنچی کہ خطبہ جمعہ میں امام جماعت احمدیہ نے یوں کہا ہے تو میں نے کہا میں خود احمدی ہوں اور میں خود وہاں موجود تھا۔میں نے وہ خطبہ جمعہ سنا ہے وہاں کوئی ایسی بات نہیں ہوئی تم جھوٹ بول رہے ہو۔اس پر وہ پولیس کا نمائندہ فورا بات بدل گیا اور کہنے لگا مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔غرض جہاں پاکستان میں ایک شریف عنصر ہے وہاں ایسا متعصب عنصر بھی ہے جسے پاکستان کے بھلے سے غرض نہیں۔اُسے صرف اپنے دلی بغض اور کینہ کے نکالنے سے غرض ہے۔اور وہ پاکستان کو تباہ کرنا زیادہ پسند کرتا ہے بہ نسبت اس کے کہ اُسے کوئی احمدی زندہ نظر آئے۔اور ایسا عنصر جھوٹ، دھو کے اور فریب سے ہرگز پر ہیز نہیں کرتا۔جو افسر شرافت اور انصاف اور پاکستان کی محبت سے معاملہ کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ایسے موقع پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ خواہ ایسی رپورٹوں پر کارروائی نہ کریں مگر ایسے