خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 70

$1950 70 خطبات محمود تو پھر اگر کوئی شخص احمدیوں کے خلاف اُن کے کان بھرنے کی کوشش کرے گا تو وہ فورا کہہ دیں گے کہ ہم جانتے ہیں کہ احمدی ایسے نہیں ہیں۔لیکن اگر وہ احمدیت کی تعلیم سے واقف نہیں تو جس طرح کوئی اُن کی کے کان بھرے گا اُن کے پیچھے لگ جائیں گے۔گویا تبلیغ کے ذریعہ ہمیں دو فائدے حاصل ہوں گے۔اول جو لوگ صداقت کو قبول کرنے کی جرات رکھتے ہیں وہ صداقت کو قبول کر لیں گے۔اور جو صداقت کو قبول کرنے کی جرات نہیں رکھتے وہ ہمارے حالات سے واقفیت کی بناء پر کلمہ خیر کہا کریں گے۔اسی طرح گزشتہ سال کی جھوٹی رپورٹ کو لے لو۔اگر افسران احمدی عقائد سے واقف ہوتے اور اُن کو معلوم ہوتا کہ احمدیت جبر سے مذہب پھیلانے کے سخت خلاف ہے بلکہ ان کے اس عقیدہ کی وجہ سے مولویوں نے اُن پر کفر کے فتوے لگائے ہیں تو جس بڑے افسر کے پاس یہ جھوٹی رپورٹ جاتی وہ بلا کر اس سے جواب طلب کرتا کہ تمہارے مولوی تو احمدیوں پر کفر کا فتویٰ لگارہے ہیں کہ یہ لوگ جبراً مذہب بدلوانے کی کے خلاف ہیں تو آج اپنے مولویوں والا عقیدہ تم نے احمدیوں کی طرف کس طرح منسوب کر دیا۔) دعاؤں سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ بے شک رحیم اور رحمن ہے مگر اُس کے سامنے جھکنے اور آہ وزاری کرنے سے جو اس کی مدد کا احساس ہوتا ہے وہ ویسے نہیں ہوتا۔ویسے تو وہ دلوں کی باتوں کو جانتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے خود ہی یہ قانون بنا رکھا ہے کہ جو چیز دل میں ہوتی ہے اُس کا ظاہر میں بھی ہونا ضروری ہے۔اور جب خدا تعالیٰ کا یہ قانون موجود ہے تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ جو چیز دل میں ہوگی وہ ظاہر میں بھی ہوگی۔اگر کوئی کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ علام الغیوب ہے جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا ہے، مجھے دعا مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ تو ہم کہیں گے کہ جس خدا نے یہ کہا ہے کہ وہ دل کے بھیدوں کو جانتا ہے اُسی نے یہ بتایا ہے کہ جو چیز دل میں ہوتی ہے اُس کا ظاہر میں بھی ہونا ضروری ہے۔تمہارے دل میں اگر کوئی چیز ہے تو ضروری ہے کہ وہ ظاہر میں بھی ہو۔پس اس قانون کے مطابق اگر تمہارے دل میں کوئی دکھ ہے تو اُس کا الفاظ کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کے سامنے نکلنا ضروری ہے۔اگر ایسا نہیں ہو رہا تو یا تم خود دھوکا میں ہو یا ہمیں اپنے دل کی جھوٹی پاکیزگی سے ڈرا رہے ہو۔دعاؤں کی طرف توجہ کرنے سے صحیح قربانی کا احساس ہوتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جتنا بڑا کام ہمارے سپرد ہے اُس کے مقابلہ میں ہماری قربانی بیج ہے۔دنیا بھر میں جماعتیں قائم کرنا، اپنے ملک ا