خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 43

$1950 43 8 خطبات محمود اپنے مقصد کے حصول کے لئے ہمیں بہت بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے فرموده 7 را پریل 1950ء بمقام ربوہ ) تشهد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص منشاء کے ماتحت ہماری جماعت کے سپر د ایک اہم کام کیا ہے اور اس کام کو پورے طور پر بجالا ناہمارے فرائض میں سے ہے۔اگر ہم ان فرائض کو صحیح طور پر پورا کریں تو اللہ تعالیٰ سے بڑے بڑے انعامات کے مستحق ہوں گے۔اور اگر صحیح طور پر پورا نہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اُس کی سزا کے مستحق ہوں گے۔لیکن چونکہ انسانی عقل کمزور ہے، اسی طرح اُس کا ذہن بھی کمزور ہے۔اس لئے وہ کئی دفعہ تو اپنے طور پر یہ خیال کر لیتا ہے کہ وہ جو کام کر رہا ہے وہ اُس معیار کے مطابق ہے جس کے مطابق اس سے خواہش کی گئی ہے۔اور کبھی وہ اپنی معذرت کے مختلف دلائل مہیا کر لیتا ہے اور یہ کہہ کر نفس کو تسلی دے لیتا ہے کہ جن حالات میں یہ باتیں کسی انسان پر واجب ہوتی ہیں وہ حالات میرے نہیں۔اور یہ دونوں باتیں اس طرز پر ظاہر ہوتی ہیں کہ اُن سے بچنے کی طاقت وہ کھو بیٹھتا ہے۔غیر شخص کے دھوکا کو پہچانا مشکل امر نہیں ہوتا۔لیکن اپنے نفس کے دھوکا کو پہچاننا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔جب دشمن کوئی بات کہتا ہے تو انسان اُس سے بچنے اور اُس کو بے اثر ثابت کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور اپنے نفس کو کہتا ہے کہ ہوشیار ہو جا۔دشمن جو کچھ کہے گا تیرے فائدہ کے خلاف کہے گا اور تیری ترقی کے راستہ میں روڑے اٹکائے گا۔ایسی صورت میں وہ پورے غور اور تدبر کے بعد دشمن کے حیلہ کو