خطبات محمود (جلد 31) — Page 264
$1950 264 خطبات محمود تیز گرم دودھ دیا گیا ہو اور اُس سے اُس کی زبان جل گئی ہوا گر کسی موقع پر اُسے کسی بھی دی جائے تو وہ سے پھونکیں مار مار کر پیتا ہے۔اسی طرح کارکنوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ان کے ان وعدوں پر بھی یقین ذرا مشکل سے آتا ہے۔مگر بہر حال اگر ان چھتوں کی اصلاح ہو جائے تو یقیناً مہمانوں کو آرام مل جائے گا۔اور اگر چھتیں درست نہ بھی ہوں تب بھی یہ یقینی بات ہے کہ جس حالت میں اور جن چھتوں کے نیچے یا یوں کہو کہ بغیر چھتوں کے مہاجرین نے پہلے پہلے گزارہ کیا تھا اُس سے بہت زیادہ اچھی حالت میں جلسہ سالانہ کے مہمانوں کو جگہ مل جائے گی۔اگلے سال امید ہے کہ شاید اتنے مکانوں کی ضرورت پیش نہ آئے اور شاید گزشتہ سال کے تجربہ کی وجہ سے صدر انجمن احمد یہ موجودہ مکانوں کی حفاظت کا بھی انتظام کر دے اور اگلے سال ہمیں صرف چھتیں ہی بنانی پڑیں عمارتیں کھڑی نہ کرنی پڑیں۔امید ہے کہ اگر بھٹے کی سہولت مل گئی تو اور بہت سے مکان بن جائیں گے۔اس سال بھی مکان بنے ہیں لیکن اگلے سال ان سے تین چار گنا زیادہ مکان بن جائیں گے۔اس طرح دس بارہ ہزار مہمانوں کی گنجائش محلوں میں نکل آئے گی۔اب بڑی ضرورت یہ ہے کہ جلسہ سالانہ پر کام کرنے والے میسر آئیں۔قادیان کی آبادی تو یہاں نہیں۔قادیان میں پندرہ ہزار افراد بستے تھے اور اُن پندرہ ہزار افراد میں سے بہت سے کارکن مل جایا کرتے تھے اور بہت سے مکان مہمانوں کی رہائش کے لئے مل جاتے تھے۔لیکن یہاں دس پندرہ ہزار کے مقابلہ میں دو اڑھائی ہزار کی آبادی ہے امید ہے ایک دو سال میں اگر اللہ تعالیٰ کا منشاء اس جگہ کو آباد کرنے کا ہوا تو یہ آبادی کم سے کم قادیان کی آبادی کے نصف کے قریب ہو جائے گی۔دنیا میں کوئی قوم بھی تربیت کے بغیر ترقی نہیں کر سکی اور تربیت بغیر مرکز کے نہیں ہوسکتی۔درحقیقت عم مرکز کی اصلاح باہر سے آنے والوں کے ذریعہ ہوتی ہے اور باہر سے آنے والوں کی اصلاح مرکز کے ذریعہ ہوتی ہے۔یہ دونوں ایک دوسرے کے نگران ہوتے ہیں۔مرکز میں رہنے والوں کی سستیاں، کوتاہیاں اور عفلتیں باہر سے آنے والوں کو زیادہ نظر آیا کرتی ہیں۔باہر سے اگر لوگ آتے ہیں تو وہ اس خطبہ کے درست کرتے ہوئے خود عمارت کے افسر سے معلوم ہوا ہے کہ مکانوں کی حفاظت نہیں کی گئی اور کچھ اینٹیں لوگ اٹھا کر لے جاچکے ہیں۔منہ