خطبات محمود (جلد 31) — Page 162
$1950 162 خطبات محمود کہ وہ اپنے فرائض کو دیانتداری کے ساتھ ادا کریں۔دنیا میں دو قسم کے مومن ہوتے ہیں۔ایک اجڈ مومن ہوتا ہے وہ کہتا ہے میں نے عقل سے کام نہیں لینا۔صرف قانون سے کام لینا ہے چاہے کسی کو فائدہ پہنچے یا نقصان۔ایسے شخص کو خواہ ہم اُجد کہیں، وحشی کہیں، کم عقل کہیں، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُس میں ایمان ضرور ہوتا ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک عقلمند مومن ہوتا ہے اُسے جہاں قانون اجازت دیتا ہے وہاں وہ دوسروں کو فائدہ پہنچا دیتا ہے اور اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ لوگ اُس پر اعتراض کریں گے۔وہ جس شخص کو بھی مظلوم دیکھتا ہے یا جس کو بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور قانون اُس کے راستہ میں حائل نہیں ہوتا اُسے فائدہ پہنچا دیتا ہے۔اور قانون کے اندر رہتے ہوئے دوسرے کو فائدہ پہنچانے کے یہ معنی ہیں کہ وہ اپنے افسروں کے سامنے عَلَى الْإِعْلان تسلیم کر سکے کہ ہاں! میں نے فلاں کو فائدہ پہنچایا ہے۔جو ایسا کہہ سکے اس کے لئے دوسرے کو فائدہ پہنچانا جائز ہے۔لیکن اگر وہ چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کام میں نے نہیں کیا فلاں افسر نے کیا ہے یا میرے فلاں ساتھی نے کیا ہے یا اس میں یہ غلط فہمی ہو گئی ہے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے ناجائز کیا ہے۔بہر حال اگر کوئی شخص عَلَی الْإِغلان کہہ سکے کہ میں نے فلاں شخص کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے تو اس کے لئے دوسرے کی مدد کرنا جائز ہے۔کیونکہ قانون کے بھی بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جن کے ماتحت دوسرے کی جائز مدد کی جاسکتی ہے۔زیادہ سے زیادہ لوگ یہی کہیں گے کہ اس نے اپنے فلاں دوست یا واقف کی مدد کی ہے۔سو یہ اعتراض کوئی حقیقت نہیں رکھتا کیونکہ انسان کہہ سکتا ہے کہ جو میرا واقف تھا اُسی کو میں فائدہ پہنچا سکتا تھا۔جو واقف ہی نہیں اُس کو فائدہ کیا پہنچایا جاسکتا ہے۔بہر حال افسروں کو خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے پوری کوشش کرنی چاہیے کہ انہیں دیانتداری کے دو مقاموں میں سے ایک مقام ضرور حاصل ہو جائے۔ایک مقام تو یہ ہے کہ انسان کہے میں اجتہاد سے کام نہیں لیتا مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اجتہاد سے کام لوں اور بعد میں میری ضمیر مجھے ملامت کرے۔میں لفظی طور پر قانون کے پیچھے چلوں گا خواہ کسی کو فائدہ ہو یا نقصان۔دوسرا مقام یہ ہے کہ انسان قانون کے اندر رہتے ہوئے عقل اور اجتہاد سے کام لے کر دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر