خطبات محمود (جلد 31) — Page 161
$1950 161 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جو تازہ وحی ہوئی ہے اُس میں ایک یہ وحی بھی شامل ہے کہ جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا اور میری بیعت میں شامل نہیں ہوتا وہ کا ٹا جائے گا بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ۔1 اگر تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تازہ وحی پر ایمان رکھتے ہو تو بیعت میں کیوں شامل نہیں ہوتے؟ اس کے بعد لازماً یا تو وہ احمدی ہو جائے گا اور یا پھر ماننا پڑے گا کہ اُس میں منافقت پائی جاتی ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب انہوں نے اس رنگ میں اُس غیر احمدی کے سامنے بات پیش کی تو وہ کہنے لگا تم نے مجھے بیعت کے لئے پہلے کبھی کہا ہی نہیں۔لومیں آج ہی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔تو حقیقت یہ ہے کہ ایک عرصہ کی تبلیغ کے بعد بھی جو شخص بیعت نہیں کرتا اس کے متعلق یہ سمجھنا کہ وہ احمدیت کے قریب آچکا ہے غلطی ہوتی ہے۔ایک حد تک تبلیغ کرنے کے بعد اصرار کرنا چاہیے کہ اب کی آپ فیصلہ کریں اور ہمیں بتائیں کہ آپ احمدیت میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں ؟ اگر احمدیت کی آپ کو ی سمجھ آچکی ہے تو بیعت کر کے جماعت کے بوجھوں کو اٹھائیے۔ورنہ اُس دھوکا میں نہ خود رہئے نہ دوسروں کو رکھیئے کہ آپ صداقت کو مان رہے ہیں۔اگر اس طرح اصرار کر کے سمجھایا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ صداقت کو نہ مانا جائے تو دل سیاہ ہو جاتا ہے تو ہزاروں ہزار لوگ اب بھی غیر احمدیوں میں ایسے ہیں جو مان لیں گے۔لیکن ہزاروں ہزار ایسے بھی نکلیں گے جو کہیں گے کہ ہم تو محض باتیں کر رہے تھے۔ایسے لوگوں کے متعلق ماننا پڑے گا کہ وہ صرف منافق ہیں جو منہ کی باتوں سے دوسروں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔باقی بڑی چیز نیک نمونہ ہوتی ہے۔تبلیغ بغیر نیک نمونہ کے نہیں ہو سکتی۔اگر ہم باتیں تو بڑی اچھی ہے کرتے ہیں لیکن ہمارا عمل اسلام کے مطابق نہیں تو ہمارے منہ کی باتیں لوگوں پر کوئی اثر پیدا نہیں کرے سکتیں۔پس ہماری جماعت کے تمام افراد کو ہمیشہ اپنے اعمال پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے اور اپنے بُرے نمونہ سے دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہیں بننا چاہیے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے اکثر ملازم پیشہ لوگوں کے متعلق جھوٹ یا سچ یہ شکایت پائی جاتی ہے کہ وہ جنبہ داری کرتے ہیں اور اپنی پارٹی کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ باتیں کس حد تک درست ہیں۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس قسم کی باتیں لوگوں میں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔پس ہماری جماعت کے جو افراد جس جس کام پر بھی مقرر ہیں اُن کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ ان کا نمونہ احمدیت کے بڑھنے یا نہ بڑھنے میں بہت کچھ دخل رکھتا ہے اور ان کا فرض ہے