خطبات محمود (جلد 31) — Page 163
$1950 163 خطبات محمود مگر اس میں بھی وہ انصاف سے کام لینے والا ہو یہ نہ ہو کہ بعض کو نقصان پہنچ جائے۔یا بعض سے وہ اس لئے حسن سلوک کرنے یا اُن کی مدد کرنے کے لئے تیار نہ ہو کہ میرا محدود دائرہ محدود دوستوں تک ہی قائم رہے گا۔کسی اور کو میں اس میں شامل کرنے کے لئے تیار نہیں۔باقی اپنے کاموں میں دیانتداری اور محنت اور پستی سے کام لینا خصوصا نو جوانوں کے لئے ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے۔میرا تجربہ یہ ہے کہ جہاں بھی نوجوانوں کو کام پر لگایا جاتا ہے وہاں اُن کی وی ستیاں اور غفلتیں اتنی نمایاں ہوتی ہیں کہ کام رک جاتا ہے یا کم ازکم وہ ترقی نہیں ہوتی جو عام حالات میں ہونی چاہیے۔گورنمنٹ کے دفتروں میں تو انسان مجبور ہوتا ہے کہ محنت کرے۔سلسلہ کے کاموں میں بھی انسان کو محنت اور قربانی اور دیانت اور چستی اور وقت کی پابندی کا نمونہ دکھانا چاہیے۔میں نے دیکھا ہے کہ گورنمنٹ کے محکموں میں ہمارے جہاں بھی احمدی دوست کام کر رہے ہیں وہ نہایت مفید ثابت ہورہے ہیں۔کیونکہ وہ محنت اور عقل سے کام کرتے ہیں اور گورنمنٹ بھی جانتی ہے کہ یہ لوگ ہم پر بوجھ نہیں بلکہ ہمارے لئے کمائی پیدا کرنے والے ہیں۔اگر ایک شخص ایک ہزار روپیہ تنخواہ لیتا ہے اور ہیں ہزار گورنمنٹ کو کما کر دیتا ہے تو وہ یقینا ایک مفید وجود ہوتا ہے اور اس کی ہر جگہ قدر کی جاتی ہے۔یہی نمونہ ہماری جماعت کے نوجوانوں کو اپنے تمام کاموں میں دکھانا چاہیے اور پستی اور محنت اور دیانتداری کے ساتھ اپنا ہر کام سرانجام دینا چاہیے۔میرا ارادہ یہاں صرف دس بارہ دن ٹھہرنے کا تھا مگر پھر میں نے پانچ دن اور بڑھا دئیے تاکہ دوسرا جمعہ بھی میں یہاں پڑھا سکوں اور آپ لوگوں کو اپنے فرائض کی طرف توجہ دلاؤں۔یہ زندگی صرف چند روزہ ہے۔اس دنیا میں نہ میں نے ہمیشہ رہنا ہے نہ آپ نے۔اگر ہم خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے ایک نیک بنیاد قائم کر دیں گے تو ہم اور ہماری نسلیں ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جائیں گی۔لیکن اگر ہم اس نیک بنیاد کو قائم کرنے میں حصہ نہیں لیں گے تو آپ لوگوں کو یا درکھنا چاہیے کہ گوروحانی نقطہ نگاہ کے ماتحت ہم کچھ کریں یا نہ کریں یہ سلسلہ بہر حال ترقی کرتا چلا جائے گا۔کیونکہ یہ کسی انسان کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ ہے۔لیکن دنیوی نقطۂ نگاہ کے ماتحت ہم اور ہماری اولادیں اُن انعامات سے محروم ہو جائیں گی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلہ کی خدمت کرنے