خطبات محمود (جلد 30) — Page 415
$1949 415 خطبات محمود کر سکتے ہو لیکن شریعت میں صرف قربانی کا حکم نہیں۔قرآن کریم کی آیت مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ بھی ہے۔اس لیے اگر کوئی شخص اپنی ساری جائداد بھی بطور چندہ دے دیتا ہے لیکن اس کی آنکھیں خدا تعالیٰ کے بندوں کی خدمت میں حصہ نہیں لیتیں، اُس کے ہاتھ خدا تعالیٰ کے بندوں کی کی خدمت میں حصہ نہیں لیتے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں شخص نے ایک روپیہ بطور چندہ دیا ہے اور میں۔اپنی آمد کا سو فیصدی چندہ دے دیا ہے اس لیے میں نے اپنے فرض کو پورا کر دیا۔یہ چیز منطق تو کہلائے گی لیکن دین نہیں کہلائے گی۔دین کا تقاضا پورا کرنا تو یہ ہو گا کہ وہ خدا تعالیٰ کے بندوں کی خدمت میں اپنی آنکھوں کو بھی استعمال کرے، اپنے کانوں کو بھی استعمال کرے۔احادیث میں آتا ہے کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو وہ بعض سے کہے گا جی کہ اے میرے بندو! میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا، میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا، میں نگا تھا۔تم نے مجھے کپڑے پہنائے ، میں بیمار ہوا تم نے میری تیمار داری کی اس لیے جاؤ میری جنت میں داخل ہو جاؤ۔وہ بندے کہیں گے تو بہ تو بہ ہماری کیا طاقت تھی کہ ہم اپنے خدا کو کھانا کھلاتے ، ہماری کیا طاقت تھی کہ ہم خدا کو پانی پلاتے ، ہماری کیا طاقت تھی کہ ہم خدا کو کپڑے پہناتے ، ہماری کیا طاقت تھی کہ ہمارا خدا بیمار ہوتا تو ہم اس کی تیمارداری کرتے۔وہ فرمائے گا میرا ادنیٰ سے ادنی بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ بھوکا تھا تم نے اسے کھانا کھلایا تو گویا مجھے ہی کھانا کھلایا۔میرا ادنیٰ سے ادنی بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ پیاسا تھا تم نے اسے پانی پلایا تو گویا مجھے ہی پانی پلایا ، میرا ادنیٰ سے ادنی بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ ننگا تھا تم نے اسے کپڑا پہنایا تو گویا مجھے ہی کپڑا پہنایا ، میرا ادنیٰ سے ادنی بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ بیمار تھا تم نے اس کی تیمارداری کی تو گویا میری ہی تیمارداری کی۔اس لیے جو کچھ میں نے کہا ہے ٹھیک کہا ہے۔جاؤ تم میری جنت کے مستحق ہو اس میں داخل ہو جاؤ۔3 پس ایک طرف تم اس حدیث کو دیکھو اور دوسری طرف اس امر کو مدنظر رکھو کہ تم اپنے بیوی ای بچوں کے لیے کیا کچھ خرچ نہیں کرتے۔اس جگہ مثال تو میں نے ماں باپ کی دینی تھی لیکن بدقسمتی سے اس زمانہ میں والدین کی محبت بہت کم ہو گئی ہے۔بدقسمتی سے لوگ اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں انتہائی سستی سے کام لیتے ہیں جو ماں باپ کی خدمت کی ان پر عائد کی گئی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ والدین ہمارے خادم ہیں ان کا فرض تھا کہ ہمیں کھیلا ئیں پلائیں ہمارا فرض نہیں کہ ان کی خدمت کریں۔