خطبات محمود (جلد 30) — Page 414
$ 1949 414 خطبات محمود اس لیے دریا کو پار کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔حالانکہ دریا میں بعض دفعہ پاؤں یکدم پانی سے باہر نکل آتا ہے لیکن کچھ آگے جا کر انسان سر تک ڈوب جاتا ہے۔بلکہ سر تک ڈوبنا تو کیا بعض دفعہ پانی سر سے بھی دو دو، تین تین فٹ اوپر نکل جاتا ہے۔اُس ملاں نے اربع 1 لگایا اور مع کنبہ دریا میں داخل ہو گیا۔ابھی تھوڑا ہی فاصلہ اس نے طے کیا تھا کہ اُس کے کنبہ کے سب افراد ڈوب گئے۔وہ خود بوجہ تیر نا جاننے کے بچ گیا۔پانی سے باہر نکل کر وہ پھر اربع لگانے بیٹھ گیا اور جب نتیجہ اربع کا وہی پہلا سا نکلاتو بولا کہ اربع لگا جوں کا توں کنبہ دتا سارا کیوں؟ غرض قانونِ قدرت کی بنیا دا ربع پر نہیں یہ حساب وغیرہ تو قانونِ قدرت کے نتیجہ میں ہوتے ہیں۔جہاں قانونِ قدرت نے انہیں چلایا ہے وہ چلیں گے اور جہاں قانونِ قدرت نے انہیں نہیں چلا یا وہ نہیں چلیں گے۔اسی طرح شریعت میں بھی یہ چیز نہیں۔شریعت کی بنیاد بھی منطق پر نہیں۔شریعت کی بنیاد اخلاقی قوانین پر ہے۔شریعت کی بنیاد محبت پر ہے، شریعت کی بنیاد قربانی پر ہے ، شریعت کی بنیاد محض عقل پر نہیں، شریعت کی بنیاد قوانین قدرت کے عام اصولوں پر بھی نہیں بلکہ اس کی بنیاد اخلاق، قربانی اور محبت پر ہے۔یہ تین چیزیں ہیں جن کو شریعت دوسری چیزوں پر مقدم رکھتی ہے۔شریعت بیشک عقل کی بھی مدد لیتی ہے لیکن وہ صرف اتنی ہی مدد لیتی ہے جتنی شریعت کے تابع ہو کر چلے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ 2 مومن کی یہ علامت ہوتی ہے کہ جو چیز اس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے پائی ہے اس میں سے کچھ حصہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔اس میں سے کچھ حصہ وہ دین کے لیے خرچ کرتا ہے۔مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ میں صرف روپیہ ہی شامل نہیں کہ انسان کچھ روپے بطور چندہ دے کر اپنے فرض کو ادا کر دے۔مِمَّا رَزَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ میں آنکھیں بھی شامل ہیں، دماغ بھی شامل ہے، کان بھی شامل ہیں، ناک بھی شامل ہے، ہاتھ اور پاؤں بھی شامل ہیں، دھڑ بھی شامل ہے، مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ میں مکان بھی شامل ہے، وہ گندم بھی شامل ہے جو تم نے پیدا کی ہے اور وہ روپیہ بھی شامل ہے جو تم کماتے ہو، وہ چی گاجریں اور مولیاں بھی شامل ہیں جو تم پیدا کرتے ہو اور وہ گڑ بھی شامل ہے جو تم پیدا کرتے ہو۔روپیہ دے کر تم مِمَّا رَزَقْنُهُمُ يُنْفِقُونَ کے حکم کو پورا نہیں کر سکتے۔ہاں! روپیہ خرچ کر کے تم قربانی ہے