خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 152

* 1949 152 خطبات محمود اس کے معاف ہو جاتے ہیں۔کہتے ہیں کوئی چور تھا۔وہ چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔بادشاہ نے اس کے لیے یہ سزا تجویز کی کہ اسے قتل کر دیا جائے۔لوگ اُسے مقتل میں لے گئے ، جلا د نے تلوار ماری لیکن اسے پتا بھی نہ لگا۔انہوں نے خیال کیا کہ شاید تلوار ناقص ہے تلوار تبدیل کی گئی لیکن پھر بھی اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔انہوں نے خیال کیا کہ شاید جلا د ناقص ہے چنانچہ دوسرا آدمی لایا گیا لیکن اس کی گردن پر پھر بھی کچھ اثر نہ ہوا۔لوگ بادشاہ کے پاس آئے اور کہا بادشاہ سلامت! یہ عجیب آدمی ہے اس پر تلوار کا ی بھی اثر نہیں ہوتا۔بادشاہ نے کہا اچھا اسے پہاڑ پر سے گرا دو۔وہ اسے پہاڑ پر لے گئے اور اسے اوپر سے نیچے گرا دیا۔لیکن اُس وقت یوں معلوم ہوا جیسے سہارا دے کر اسے کسی شخص نے اٹھا لیا ہو۔لوگ پھر بادشاہ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا یہ بڑا عجیب آدمی ہے اس پر پہاڑ سے گرانے کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔بادشاہ نے کہا اچھا! اسے آگ میں جلا دو۔اس پر اسے آگ میں ڈالا گیا لیکن آگ نے بھی اُس پر کوئی اثر نہ کیا۔وہ آگ میں بالکل ایسے ہی پھرتا رہا جیسے کوئی پھولوں سے کھیلتا ہے ہو۔بادشاہ نے کہا اچھا اس کے جسم کے ساتھ ایک بڑا پتھر باندھ کر اسے غرق کر دو۔اس پر ایک بھاری پتھر کے ساتھ اسے باندھ کر سمندر میں گرا دیا گیا لیکن وہ کارک کی مانند پانی پر تیرتا رہا۔لوگوں نے خیال کیا کہ یہ کوئی بڑا بزرگ ہے۔چنانچہ بادشاہ نے اسے دربار میں بلایا اور کہا آپ مجھے معاف کردیں میں نے آپ کی ہتک کی ہے آپ تو کوئی بڑے بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔اس شخص نے جواب دیا بادشاہ سلامت! میں تو ایک چور ہوں بزرگ نہیں ہوں۔بادشاہ نے کہا نہیں تم بڑے بزرگ ہو۔تم سے جو معجزات ظاہر ہوئے ہیں یہ تو کسی بڑے سے بڑے ولی اللہ سے بھی ظاہر نہیں ہوئے۔اس شخص نے کہا نہیں میں چور ہوں۔لیکن میں روز دعائے گنج العرش پڑھا کرتا ہوں لی اس لیے آپ کی سزاؤں کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔غرض جس طرح لوگوں نے دعائے گنج العرش کو ایک عجوبہ بنالیا تھا اور کئی قسم کے جھوٹ اس کی طرف منسوب کر دیئے تھے اُسی طرح مسلمانوں نے کی کلمہ طیبہ کو بھی ایک عجوبہ بنالیا تھا۔وہ خیال کرتے تھے کہ ایک دفعہ کلمہ منہ سے پڑھ لیا تو پھر خواہ کوئی مشرک بن جائے کوئی حرج نہیں۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مسلمانوں کا یہ اعتقاد تھا کہ ایک دفعہ