خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 153

$1949 153 خطبات محمود سے آپ کی رسالت کا اقرار کر لیا جائے تو یہ مسلمان بننے کے لیے کافی ہے۔خواہ زندگی بھر نہ نمازیں پڑھی جائیں، نہ روزے رکھے جائیں، نہ حج کیا جائے ، نہ زکوۃ دی جائے اور نہ اسلام کے دوسرے مسائل پر عمل کیا جائے۔گویا مسلمان کلمہ رسالت کے بھی اُلٹے معنے کرتے تھے اور کلمہ توحید کے بھی اُلٹے معنے کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سب باتوں کو غلط قرار دیا اور بتایا کہ تو حید کے معنے صرف کلمہ توحید پڑھ لینے کے نہیں بلکہ اس کے معنے ایمان اور یقین کے اظہار کے ہیں۔اگر ایمان اور یقین ہے تو کلمہ بھی ہے لیکن اگر ایمان اور یقین نہیں تو صرف کلمہ پڑھ لینے سے کیا بن جاتا ہے۔اگر کوئی کہے کہ آگ لگ گئی ہے، تو اگر واقعی آگ موجود ہے تو یہ فقرہ درست ہے لیکن اگر آگ لگی ہی نہیں تو یہ محض جھوٹ ہوگا۔یا مثلا تم کہتے ہو ہم نے پانی پی لیا ہے اب اگر تم نے واقع میں پانی پی لیا ہے اور تمہاری پیاس بجھ گئی ہے تو یہ ایک حقیقت کا اظہار ہے لیکن اگر تم ابھی پیاسے ہی ہو تو صرف ”پانی پی لیا ہے“ کہنے سے کیا بنتا ہے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں حقیقی تو حید سکھائی اور بتایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق اس قسم کی جتنی باتیں مشہور ہیں سب جھوٹ ہیں، اور اگر یہ باتیں سچی ہیں تو پھر خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر حملہ ہوتا ہے۔غرض آپ کی بعثت سے قبل جہاں بعض ایسی باتیں حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کر دی گئی تھیں جو صرف خدا تعالیٰ میں ہی پائی جاتی ہیں وہاں بعض ایسی باتیں بھی آپ کی طرف منسوب کر دی گئی تھیں جو خدا تعالیٰ میں بھی نہیں پائی جاتیں۔اسی طرح اور بھی کئی نقائص مسلمانوں میں پیدا ہو گئے تھے جنہیں آپ نے دور کیا۔مثلاً دعا کے متعلق بعض غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں، تقدیر کے متعلق بعض غلط فہمیاں پیدا ہوگئی تھیں، بعث بعد الموت کی کے متعلق بعض غلط فہمیاں پیدا ہوگئی تھیں، فرشتوں کے متعلق بعض غلط خیالات پھیلے ہوئے تھے، اعمال میں کئی قسم کی کمزوریاں پیدا ہوگئی تھیں۔آپ نے ان سب کو دُور کیا۔مثلاً نماز کو ہی لے لو۔نماز ادا کرنے کا جو طریق اختیار کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ سجدہ میں گئے کھٹ سے سرزمین پر لگا اور جیسے گیند زمین سے ٹکرا کر اوپر آجاتا ہے اُسی طرح انہوں نے زمین سے سر اٹھا لیا۔پھر قعدہ بین السجدتین میں بڑی کوتاہی ہوتی تھی، رکوع کے بعد قیام میں بڑی کوتاہی سے کام لیا جاتا تھا۔اس قسم کی غلط فہمیوں اور کوتاہیوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دُور کر کے اعمال