خطبات محمود (جلد 30) — Page 151
$ 1949 151 خطبات محمود تعلق رکھتا ہے۔مثلاً اس زمانہ کے مامور من اللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلمان کہلانے والوں کے ساتھ ان کے کئی قسم کے عقیدوں میں اختلاف کیا۔مثلاً توحید جو مذہب کی جان ہے۔آپ نے اس کی تشریح میں موجودہ مسلمانوں سے اختلاف کیا۔آپ کی بعثت سے پہلے مسلمان یہ خیال کرتے تھے کہ صرف منہ سے لَا اِلهَ إِلَّا اللہ کہہ دینے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ ہم موحد ہو گئے۔خواہ اپنے اعمال کے لحاظ سے یا جزوی عقیدوں میں وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں۔مثلاً وہ منہ سے لا إِلهَ إِلَّا الله کہتے تھے لیکن حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیتے تھے۔وہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جو نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔دو ہزار سال سے آسمان پر بیٹھے ہیں اور آخری زمانہ میں وہ دنیا کی اصلاح کے لیے نازل ہوں گے۔وہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پرندے پیدا کیا کرتے تھے جو صرف خدا تعالیٰ کی خصوصیت ہے۔وہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو علم غیب حاصل تھا اور یہ بھی خدا تعالیٰ کی ہی خصوصیت ہے۔وہ یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مُردے زندہ کیا کرتے تھے جو صرف خدا تعالیٰ کی خصوصیت ہے۔پھر ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مُردوں کو اس دنیا میں واپس لاتے تھے جو خدا تعالی کی بھی سنت نہیں۔خدا تعالیٰ ایسا کر تو سکتا ہے لیکن اس کا قانون ہے کہ وہ ایسا کرتا نہیں۔احادیث میں بھی آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الہاما یہ بات بتائی کہ ہم مردوں کو اس دنیا میں دوبارہ واپس نہیں کیا کرتے۔1 غرض مسلمانوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف بعض ایسی باتیں منسوب کر دی تھیں جو خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے انسان نہیں کر سکتا۔اور بعض باتیں ایسی منسوب کر دی تھیں جو خدا تعالیٰ بھی اس دنیا میں نہیں کرتا۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ مسیح علیہ السلام مُردوں کو اس دنیا میں واپس لے آتے تھے حالانکہ یہ کام خدا تعالیٰ بھی نہیں کرتا۔گویا یہ خصوصیت حضرت مسیح علیہ السلام میں خدا تعالیٰ سے بھی زیادہ پائی جاتی تھی۔یا مثلاً وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ جب منہ سے لا إلهَ إِلَّا الله کہہ دیا جائے تو اس کے بعد خواہ کچھ کر لیا جائے اس سے توحید میں کوئی فرق نہیں کی پڑتا۔گویا لا إِله إِلَّا الله کو دعائے گنج العرش بنالیا گیا تھا۔دعائے گنج العرش کے متعلق بیان کیا جاتا ہے ہے کہ جو شخص اُسے ایک دفعہ پڑھ لے اُسے تمام پچھلے نبیوں کی نیکیاں مل جاتی ہیں اور سارے گناہ ہے