خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 315

* 1949 315 32۔خطبات محمود بڑے کام بڑے ارادوں ، بڑے عزم اور بڑی قربانیوں سے ہوا کرتے ہیں ربوہ میں صرف انہیں لوگوں کو رہنا چاہیے جو ہر وقت دین کی خدمت کے لیے تیار رہیں (فرمودہ 30 ستمبر 1949ء بمقام ربوہ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ابھی ہماری نماز اس جگہ پر عارضی طور پر ہے۔ابھی اس مقام پر مسجد کی بنیاد نہیں رکھی گئی۔نہ مسجد کی منظوری حکومت کی طرف سے ابھی ہوئی ہے۔جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے ربوہ مقام کے لیے حکومت نے کچھ قوانین مقرر کیے ہیں۔گو یہ ایک وادی غیر ذی زرع ہے اور ایک غیر آباد علاقہ ہے لیکن اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ جلد ہی ربوہ کو ایک شہر کی حیثیت دینے کی کوشش کی جائے گی حکومت نے یہ قانون بنا دیا تھا کہ یہ زمین اس شرط پر دی جاتی ہے کہ حکومت کے منظور کردہ نقشہ کے مطابق سڑکیں وغیرہ بنائی جائیں اور اُس کے مطابق عمارتیں تعمیر کی جائیں۔یعنی جو جگہ گورنمنٹ نے کی رہائش کے لیے تجویز کی ہے اُس میں رہائشی مکانات بنائے جائیں اور اتنی ہی جگہ میں بنائے جائیں جتنی جگہ اُس نے رہائشی مکانات کے لیے تجویز کی ہے۔اور جو جگہ اُس نے دکانوں کے لیے تجویز کی ہے