خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 314

$ 1949 314 خطبات محمود تو اُس نے فوراً ایک زمیندار کو تیار کرا دیا جس نے ضمانت دے دی اور اس طرح ہماری ضرورت پوری کی ہوگئی۔یہ کام اُس نے محض اس لیے کیا کہ اس نے ہمارے اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔پس اگر یہاں ایک دوسرا کالج قائم ہو جائے اور لڑکوں کا ہائی اسکول بھی بن جائے تو یہ لازمی بات ہے کہ بیس فیصدی غیر احمدی بھی پڑھنے کے لیے آئیں گے اور وہ جماعت کے اثر اور اس کے نفوذ کو بڑھا دیں گے اور بعض اچھے اچھے خاندان جن سے اب تعلق پیدا کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ان میں احمدیت پہنچ جائے گی۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ ایک غیر احمدی رئیس کے چا کا بیٹا لا ہور میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آیا۔کسی نے اُسے کہا کہ تعلیم الاسلام کالج میں داخل ہو جاؤ۔چنانچہ وہ داخل ہوا اور اُس پر آہستہ آہستہ احمدیت کا اثر ہوتارہا۔یہاں تک کہ ایک دن وہ احمدیت میں داخل ہونے کے لیے میرے پاس آ گیا۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کو اس اہم امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اگلا جمعہ تو غالبا میں یہاں نہیں پڑھاؤں گا بلکہ یقین کی حد تک یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اگلا جمعہ انشَاءَ اللهُ ربوہ میں ہی پڑھایا ای جائے گا سوائے اس کے کہ ام متین کی بیماری کی وجہ سے کوئی خاص روک پیدا ہو جائے لیکن اگلے سے ای اگلے جمعہ کے متعلق امکان ہے کہ میں یہاں پڑھاؤں۔اور گو میرا لاہور میں آنا منع نہیں لیکن پھر بھی ای یہاں کی مستقل رہائش آب ختم ہو چکی ہے۔اس لیے جاتے ہوئے میں جماعت کو پھر اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس موقع کو جانے نہ دو اور اس میں ہر گز کسی قسم کی کوتاہی سے کام نہ لو۔اس میں ہم جتنی کوتاہی کریں گے اتنا ہی ہم اپنی اولادوں پر ظلم کریں گے اور ان کو احمدیت سے دُور کر دیں گئے“۔الفضل 27 ستمبر 1949 ء ) 1 : التوبة: 119 2 : ٹاہلی بشیشم کا درخت ( اردو لغت جلد 6 صفحہ 34 مطبوعہ کراچی 1984ء)