خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 316

* 1949 316 خطبات محمود اُس میں دکانیں بنائی جائیں۔جتنی جگہ گورنمنٹ نے مدرسہ، دفاتر یا مسجد کے لیے تجویز کی ہے اُسی جگہ پر مدرسہ، دفاتر اور مسجد وغیرہ کی تعمیر ہو۔بعض حلقے اس میں ایسے بھی چھوڑے گئے ہیں جیسے یہ حلقہ ہے جس میں میں خطبہ پڑھا رہا ہوں۔جس میں مرکزی ادارہ قائم کرنے کی تجویز ہے۔جس جگہ ہم اس وقت اکٹھے ہیں گورنمنٹ کے تجویز کردہ نقشہ کے مطابق قصر خلافت کی جگہ ہے یعنی اس میں خلیفہ وقت کا مکان ہوگا۔اسی طرح اس میں لنگر خانہ خلافت اور مہمان خانہ وغیرہ بنے گا۔اس کے پہلو میں مشرق کی طرف یا نیم مشرق سمجھ لو کیونکہ یہ جگہ کچھ ٹیڑھی ہے دفاتر وغیرہ بنیں گے۔مغرب اور شمال اور رقبہ ریل کے پار جتنا علاقہ ہے اس میں مختلف لوگوں کے رہائشی مکانات اور سکول وغیرہ بنیں گے۔اور جس جگہ پر ہم کھڑے ہیں اس کے مغرب جنوب میں لجنہ اماءاللہ اورلڑکیوں کے سکول وغیرہ کی جگہ ہے۔ہسپتال بھی اسی کے قریب علاقہ میں تجویز ہوا ہے اور چونکہ ہم پابند ہیں کہ گورنمنٹ نے جو جگہیں تجویز کی ہیں انہی جگہوں پر اُس کی تجویز کردہ عمارات بنائیں اس لیے فوری طور پر عمارتیں شروع نہیں ہے کی جاسکتیں۔اب اُن نقشوں کے مطابق جو گورنمنٹ نے تجویز کیے ہیں داغ بیل لگ رہی ہے۔جب داغ بیل لگ گئی تو گورنمنٹ کو اطلاع دی جائے گی اور پھر اصل عمارات شروع کی جائیں گی۔اس مالی وقت منظوری کے بعد اس جگہ کی تعمیر شروع ہوگی جسے اور عمارات پر مقدم رکھا جائے گا کیونکہ پہلے خدا کا گھر بنانا ضروری ہے۔وہ عارضی مکانات جو بنائے جاچکے ہیں اس لیے بنائے گئے ہیں کہ مستقل مکانات سے پہلے ان عارضی مکانات کا بنانا ہمارے لیے ضروری تھا۔لیکن مستقل عمارات میں سب سے پہلے مسجد کی تعمیر کی جائے گی اور اس کے بعد اردگرد کے مکانات وغیرہ بنائے جائیں گے۔یہ مسجد وہ مسجد ہے جو خلیفہ وقت کے مکان کے ساتھ ہوگی۔میں اپنا مکان اس لیے نہیں کہتا کہ میں الگ چیز ہوں اور خلیفہ الگ چیز ہے۔میں ایک فرد ہوں جو اس وقت خلیفہ ہوں لیکن میرے بعد کوئی اور شخص خلیفہ ہوگا اور وہ لازماً اُس مکان میں رہے گا جو مسجد کے قریب ہوگا تا کہ وہ اس میں امامت کر سکے اور جو لوگ مسجد میں آئیں انہیں دین کی تعلیم اور درس و تدریس وغیرہ دے۔گویا یہ مسجد، مسجد مبارک کی قائم مقام اور اُس کا ظل اور مثیل ہو گی۔جامع مسجد جس میں سارے شہر کے لوگ نماز پڑھیں گے وہ ریل کے پار تجویز کی گئی ہے وہ بہت بڑی جگہ میں ہوگی جس میں ہماری عید گاہ بھی ہو گی۔اُس میں سارے شہر کے لوگ جمعہ کے لیے بھی اکٹھے ہوں گے اور عید بھی وہیں پڑھیں گے۔وہ مسجد جہاں تک میرا