خطبات محمود (جلد 30) — Page 179
خطبات محمود 179 $ 1949 اسی قسم کا طریق بعض اور اولیاء بھی اپنی زندگی میں اختیار کرتے رہے ہیں۔میں نے تو کسی کتاب میں یہ واقعہ نہیں پڑھا لیکن حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک بزرگ بڑے کی آسودہ حال تھے اور وہ اپنے مال سے غرباء کا حق ہمیشہ نکالتے رہتے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی کی یہ بھی عادت تھی کہ وہ روزانہ بازار میں چلے جاتے اور لوگوں سے بھیک مانگنی شروع کر دیتے اور ی شام کو بھیک مانگ کر جو کچھ جمع کیا ہوتا وہ غریبوں میں تقسیم کر دیتے۔ایک دفعہ اُن سے کسی دوست نے کہا کہ آپ نے یہ کیا ذلت کا طریق اختیار کیا ہوا ہے؟ آپ اپنے روپیہ میں سے بیشک غریبوں کی کو دیجیے لیکن بھیک مانگنا، دکانوں پر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانا اور سارا دن سائل بن کر لوگوں کے پیچھے پیچھے پھرتے رہنا یہ بہت ہی معیوب بات ہے۔انہوں نے کہا تم میرے فعل کی حکمت نہیں ہے جو روپیہ خدا تعالیٰ مجھے دیتا ہے اور پھر میں آگے تقسیم کر دیتا ہوں اس کا ثواب بیشک مجھے ملے گا۔اور اگر خدا تعالیٰ کا کوئی عذاب نازل ہونے والا ہوا تو میرا یہ فعل اس کے عذاب سے مجھے بچا لے گا۔لیکن چونکہ یہ لوگ جو میرے ارد گرد رہتے ہیں اپنے مالوں میں سے خدا کا حق نہیں نکالتے اس لیے اگر ان پر عذاب نازل ہوا تو ہمسایہ ہونے کی وجہ سے ممکن ہے میں بھی اس میں شریک ہو جاؤں۔اس لیے میں خود ان کے پاس چلا جاتا ہوں۔یہ میرا لحاظ کر کے کچھ دے دیتے ہیں اور میں آگے دے دیتا ہوں۔غرض افراد میں تو ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بڑے بڑے مالدار ہونے کے باوجود وہ کی خدا تعالیٰ کو نہیں بھولے بلکہ اس کی محبت میں ترقی کرتے چلے گئے اور اخلاص اور روحانیت میں کی بڑھتے گئے لیکن قوموں میں ایسی مثالیں نہیں ملتیں۔قوم بحیثیت قوم جب تک مصیبت میں گھری رہتی ہے وہ روحانی منازل بڑی سرعت سے طے کرتی رہتی ہے۔لیکن جب مصائب میں سے نکل جاتی ہے تو اُس کا قدم رُک جاتا ہے اور وہ تنزل میں گرنی شروع ہو جاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں افراد میں چونکہ کامل اور غیر کامل دونوں وجود ہوتے ہیں کامل وجود ان حالات میں بھی اپنے مقام پر قائم رہتے ہیں لیکن غیر کامل گر جاتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی بجائے دنیا کی طرف متوجہ ہوئی جاتے ہیں۔حضرت ابوبکر جانتے تھے کہ اگر میں نے جنگیں نہ کیں تو مسلمانوں کے اخلاق گر جائیں گے۔حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ اگر میں نے جنگیں نہ کیں تو مسلمانوں کے اخلاق گر جائیں گے۔