خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 154

* 1949 154 خطبات محمود اور عقائد میں عظیم الشان تبدیلیاں پیدا کر دیں۔اور جب کوئی شخص آپ پر ایمان لاتا ہے تو وہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اس کے عقائد بھی درست ہیں اور اس کے اعمال بھی درست ہیں۔پس اگر تم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لا کر واقع میں اپنے عقائد اور اعمال کو درست کر لیا ہے تو تم سچ سچ احمدی ہو گئے ہو لیکن اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو تمہارے گناہ پہلے گناہوں سے یقیناً بڑھ گئے ہیں۔تمہارے گناہ اگر پہلے دس تھے تو اب وہ گیارہ ہو گئے ہیں یا پہلے گیارہ تھے تو اب بارہ ہو گئے ہیں۔فرض کرو ایک شخص حج نہیں کرتا ، وہ نمازیں نہیں پڑھتا، زکوۃ ا نہیں دیتا، انصاف اور دیانت سے کام نہیں لیتا تو یہ پانچ گناہ وہ پہلے کر رہا تھا۔اب اگر اس نے ی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی ہے لیکن اس نے وہ کام نہیں کیے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے کرنے کے لیے بتائے تھے اور اس نے اُن باتوں کو نہیں مانا جو اسلام نے بتائی تھیں تو یہ بات اس کے گناہوں کو کم کرنے والی نہیں ہوگی بلکہ زیادہ کرنے والی ہوگی۔کیونکہ پہلے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا قائل نہیں تھا لیکن اب آپ پر ایمان انے کے باوجود اس نے اسلام کے احکام پر عمل نہیں کیا۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام کا ایک حصہ جماعت کی تربیت تھی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا تم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام پر ایمان لا کر اپنے اندر کوئی تغیر پیدا کیا ہے؟ اگر تم نے ایمان لانے کے بعد اپنے اندر ایک نمایاں فرق پیدا کر لیا ہے مثلاً نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ اور دوسرے اسلامی احکام کی پابندی تم نے کر لی ہے تب تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حصہ تم نے پورا کر لیا۔لیکن اگر تم نے اپنے اندر کوئی نمایاں تبدیلی ہے پیدا نہیں کی تو تمہارے پہلے پانچ گناہ بھی بخشے نہیں گئے بلکہ ان میں زیادتی ہو گئی ہے اور اب وہ پانچ کی بجائے چھ ہو گئے ہیں۔اس طرح تمہاری حالت بجائے بہتر ہونے کے اور بھی بدتر ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام کا دوسرا حصہ تبلیغ تھا۔جوشخص آپ پر ایمان کی لاتا ہے اور پھر دنیا میں اسلام کی اشاعت کی کوشش نہیں کرتا وہ آپ کا صحیح پیرو قرار نہیں دیا۔جا سکتا۔فرض کر و جماعت کا ہر شخص ولی اللہ بن جاتا ہے، جماعت کا ہر شخص صاحب کمال بن جاتا ہے لیکن وہ تبلیغ نہیں کرتا تو ہم دوسرے لوگوں کو احمدیت میں کس طرح داخل کر سکتے ہیں؟ دنیا تھی