خطبات محمود (جلد 30) — Page 155
* 1949 155 خطبات محمود کی دو ارب آبادی ہے، دو ارب کا سینکڑواں حصہ دو کروڑ ہوتا ہے۔دو کروڑ کا سینکڑواں حصہ دو لاکھ ہوتا ہے۔فرض کرو دنیا میں دو لاکھ احمدی ہوں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ دس ہزار آدمیوں میں سے صرف ایک شخص احمدی ہے۔اس کی مثال یوں سمجھ لو کہ جیسے دس ہزار سیر پانی میں ایک سیر کھانڈ ڈال دی جائے۔اب کیا دس ہزار سیر پانی میں ایک سیر کھانڈ ڈالنے سے شربت بن جائے گا؟ یا کیا دس ہزار سیر پانی میں ایک سیر گوشت ڈالنے سے شور بہ بن جائے گا ؟ یا کیا دس ہزار سیر پانی میں ایک سیر آٹا ڈالنے سے روٹی بن سکتی ہے؟ دس ہزار سیر پانی میں ایک سیر آٹا ڈالنے سے کچھ بھی نہیں بنے گا۔دس ہزار سیر پانی میں ایک سیر آٹے کا تو پتا بھی نہیں لگے گا کہ وہ کہاں گیا ہے۔دوسرے رنگ میں یوں سمجھ لو کہ چار سیر کا ایک گیلن ہوتا ہے اور دس ہزار سیر کے اڑھائی ہزار گیلن بنتے ہیں اور اڑھائی ہزار گیلن کے چھ سو عام گھی یا تیل والے پیسے بنتے ہیں۔اب اگر گھی یا تیل کے عام پیپوں کے برابر چھ سو پیپے پانی ہو اور اس میں ایک سیر آٹا ڈال دیا جائے تو اس کا کیا پتا لگے گا۔ہماری ھے جماعت اور دوسرے لوگوں میں یہی نسبت ہے۔چھ سو کنستر پانی میں اگر ایک سیر شکر ڈال دی جائے کی تو جو نسبت پانی اور شکر میں ہوگی وہی نسبت ہماری جماعت اور دوسرے لوگوں میں ہے۔فرض کرو چھ سو پیپوں کے برابر پانی میں ایک سیر آٹا ڈال دیا جائے تو کیا اس سے روٹی بن سکتی ہے؟ روٹی یکنی تو کجا اس پانی کا تو رنگ بھی تبدیل نہیں ہو گا۔اسی طرح اگر ہمارے سارے لوگ اولیاء اللہ بن جائیں، سارے لوگ بے عیب بن جائیں تو اس سے باقی دنیا کو کیا فائدہ پہنچے گا۔دنیا میں ایک عظیم الشان تغییر تبھی پیدا ہو سکتا ہے جب تم اپنے اندر کثرت پیدا کرو۔کثرت کے بغیر کبھی اتنی طاقت پیدا نہیں ہوسکتی جس کے ساتھ ہم شیطان کا مقابلہ کر سکیں۔پس سب سے پہلے اپنے عقائد اور اعمال کو درست کرنا ضروری ہے اور اس کے بعد اصلاح و ارشاد کے کام پر زور دینا چاہیے تا جماعت کثرت سے دنیا میں پھیل جائے اور دوسروں پر اثر پیدا کر سکے۔ایک گلاس پانی میں اگر چار پانچ چمچے کھانڈ ڈال دی جائے تب اثر ہوتا ہے لیکن دنیا میں غلبہ شربت والی کھانڈ جیسی زیادتی سے نہیں ہوتا بلکہ اُسی وقت ہوگا جب پانی میں آئے جیسی کثرت حاصل ہو جائے۔اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو ہمیں پانی میں آئے جیسی کثرت حاصل کرنی ہوگی۔ویسے تو ایک مچھلی بھی تالاب کو گندا کر سکتی ہے۔اگر ہم گندے ہوں گے تو یہ یقینی بات ہے کہ