خطبات محمود (جلد 30) — Page 116
$ 1949 116 خطبات محمود ایک تیر سے دو شکار کر لیتے ہیں۔وہ یہاں آکر اپنے ضروری کام بھی کرتے ہیں اور ایسے ادار۔اور تحریک سے واقفیت بھی حاصل کر لیتے ہیں جو ان کی توجہ کا مرکز بن رہا ہو۔پس جہاں تک لاہور کو سیاسی حیثیت حاصل ہے ہم اس جماعت کو بعد میں بھی نظر انداز کی نہیں کر سکتے۔اگر لاہور میں جو مشکلات ہمیں پیش آرہی ہیں وہ دور ہو جائیں اور ہمیں ایسی جگہیں مل جائیں جہاں ہم مرکز کا ایک حصہ رکھ سکیں تو مرکز بھی مقامی جماعت کے ان کاموں میں ممد ثابت ہوگا جس کے کرنے کی ذمہ داری اس پر ڈال دی گئی ہے۔لاہور کی جماعت کی مستورات کی طرف سے مجھے عرصہ سے یہ شکایت آرہی ہے اور رے خیال میں وہ نہایت معقول ہے کہ یہاں لاہور میں جماعت کی لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں۔جس کی وجہ سے یا تو وہ صحیح تعلیم کے نہ ہونے کی وجہ سے جاہل اور ان پڑھ رہتی ہیں یا دوسرے سکولوں میں جا کر دوسرے لوگوں کے خیالات سے متاثر ہو جاتی ہیں۔اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے بھائیوں کے دین کی حفاظت کریں اور اس کے اندر رخنہ پیدا کرنے والے سامان کو دور کریں وہ اس میں اور بھی مد ہو جاتی ہیں اور انہیں صحیح رستہ سے ہٹا دیتی ہیں۔میں جماعت کو ایک سال سے اس طرف توجہ دلا رہا ہوں۔میرے نزدیک لاہور کی جماعت کی حیثیت کے لحاظ۔ضروری ہے کہ اس کے زنانہ اور مردانہ دونوں ہائی سکول اپنے ہوں۔یہ خیال کہ جماعت اس خرچ کو برداشت نہیں کر سکتی ایک مضحکہ خیز بات ہے۔مبائعین کی جو جماعت لاہور میں ہے وہ پیغامی جماعت سے کئی گنے زیادہ ہے۔پیغامیوں کے ایک ایک آدمی کے مقابلہ میں ہمارے آٹھ آٹھ دس دس آدمی یہاں ہیں۔ان کے جلسے پر بھی اتنے آدمی حاضر نہیں ہوتے جتنے آدمی ہمارے جمعہ پر حاضر ہو جاتے ہیں لیکن فسادات سے پہلے لاہور میں ان کا ایک ہائی سکول تھا اب دو ہائی سکول ہیں۔اگر ایک چھوٹی سی جماعت دو ہائی سکول چلا سکتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہماری جماعت جو اُن کی نسبت سے کئی گنے زیادہ ہے زنانہ اور مردانہ دو ہائی سکول نہ چلا سکے۔اور ابھی تو ہائی سکول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا صرف ایک زنانہ مڈل سکول کا ہی سوال ہے تا جماعت کی لڑکیاں قرآن کریم ختم کر سکیں اور ان کی ایک حد تک دینی تربیت ہو سکے۔سات آٹھ سو کی جماعت عورتوں اور بچوں کے علاوہ ہے حالانکہ عورتوں اور بچوں میں سے بھی بعض کمانے والے ہیں۔پس یہاں کی جماعت کی