خطبات محمود (جلد 30) — Page 115
$1949 115 خطبات محمود پنجاب کے لوگوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ صوبائی تعصب سے خالی ہیں اور اگر انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ صوبہ داری ذہنیت سے آزاد ہیں تو یقیناً ان کے نمونہ کا اثر دوسروں پر بھی پڑے گا اور صوبائی تعصب کی بیماری سے جو اس وقت سرطان کے پھوڑے کی سی صورت اختیار کر رہی ہے پاکستان شفا پا جائے گا اور باہمی اختلاف دور ہو جائے گا۔غرض لاہور کی جماعت کو ایک اہمیت حاصل ہے جس کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔لاہور خواہ اچھے رنگ میں ہو یا بُرے رنگ میں ہمیشہ اپنے آپ کو آگے کرتا رہے گا۔اس لیے لاہور کی جماعت کی ذمہ داریاں کسی حالت میں بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتیں۔اس کی ہر حالت کا باقی جماعت پر اثر پڑے گا۔اگر لاہور کی جماعت کمزور ہوگی، اگر لاہور کی جماعت اپنے مقام کو جو اس کا جائز حق ہے حاصل نہ کرے گی تو اس کا اثر صوبہ کی دوسری جماعتوں پر بھی ضرور پڑے گا۔اور وہ تبلیغ جس کے رستے اب خدا تعالیٰ نے کھول دیئے ہیں اور اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے جو مواقع ہمیں میسر آچکے ہیں انہیں زبردست دھکا لگے گا جس کا ازالہ آسانی سے نہیں ہو سکے گا۔لیکن لاہور کی جماعت اگر اخلاص سے کام لے گی اور اپنے فرض منصبی کو سمجھے گی تو ہماری تبلیغ بھی وسیع ہو جائے گی اور جماعت يَوْمًا فَيَوْمًا بڑھتی چلی جائے گی۔اگر لاہور کی جماعت لاہور میں اپنے اثر کواتنا نمایاں اور ظاہر کر دے کہ دشمن کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑے کہ جماعت احمدیہ نے اپنا ایک نقش قائم کر دیا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صوبہ کے باقی اضلاع، شہروں اور دیہات میں احمدیت اس سے زیادہ سرعت کے ساتھ پھیلنے لگ جائے گی جس سُرعت سے وہ اب پھیل رہی ہے۔اگر اللہ تعالی کی لی مشیت کے مطابق تین چار ماہ تک ہم ربوہ میں جابسے اور ایسی سہولتیں ہمیں حاصل ہو گئیں کہ اُسے ہم مرکز بنالیں تو پھر جماعت کا تنظیمی مرکز تو بے شک ربوہ ہی ہوگا لیکن یہ بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ اس کا سیاسی مرکز ایک رنگ میں لاہور ہی ہوگا کیونکہ جماعت کا تنظیمی مرکز جس جگہ ہو ضروری نہیں کہ دوسرے لوگ جو جماعت سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ بھی اپنی توجہ کا مرکز اسے بنا لیں۔لوگ قدرتی طور پر سہل ترین طریق کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہیں اپنے ذاتی کاموں کے لیے لاہور آنا پڑتا ہے۔جب وہ لاہور آتے ہیں تو قدرتی طور پر ان کی توجہ ان اداروں اور تحریکوں کی طرف بھی ہوتی ہے جن کے مرکز یا مرکزوں کے ظل لاہور میں موجود ہیں۔گویا وہ