خطبات محمود (جلد 30) — Page 117
* 1949 117 خطبات محمود آمد استی نوے ہزار ماہوار سے کم نہیں ( جو آمد ان کی اپنی بتائی ہوئی ہے وہ بھی پچاس ہزار سے زیادہ ہے بلکہ آمد کا اگر صحیح اندازہ لگایا جائے تو وہ ایک لاکھ تک جا پہنچتی ہے۔ایک لاکھ کی آمدن والی جماعت کے لیے ایک ہائی سکول کا چلانا کچھ مشکل نہیں۔آخر لڑ کے فیسیں بھی دیں گے۔مڈل سکول کی تو تین چار ہزار روپیہ میں چل سکتا ہے اور اتنی بڑی جماعت کے لیے یہ مشکل امر نہیں۔اگر جماعت کی کے افراد چار چار، پانچ پانچ روپیہ بطور چندہ دیں تو زنانہ اور مردانہ دونوں مڈل سکول چل سکتے ہیں۔پھر مڈل سے انہیں ہائی تک پہنچایا جائے۔پھر جماعت کے عہدیداران اگر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور بالا افسروں تک پہنچ کر اُن پر اپنی ضرورتیں ظاہر کریں تو ان سے بھی مددمل سکتی ہے۔اگر اُن پر زید اثر ڈال سکتا ہے تو بکر اثر کیوں نہیں ڈال سکتا ؟ ہر آفت جو آئے کیا وہ ہمارے لیے ہی مقدر ہے؟ اور کیا یہ بات کسی کی عقل میں آسکتی ہے کہ ہر آدمی افسروں کو اپنی طرف مائل کر سکے مگر انہیں نہ مائل کر سکے تو ہماری جماعت محکمہ تعلیم ہمارا مخالف ہو؟ پولیس ہمارے خلاف ہو؟ ڈپٹی کم ہمارے خلاف ہو ؟ یہ بات بالکل عقل کے خلاف ہے۔چاہیے کہ ہماری جماعت کے لوگ بھی ای افسروں سے میل جول پیدا کریں۔کوئی وجہ نہیں کہ حکومت دوسرے سکولوں کو مدد دے اور ان کو نہ دے۔ان کو وہ کیوں مدد نہ دے گی ؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ اگر جماعت کوشش کرے تو دونوں ہائی اسکول بیس ہزار روپیہ میں چل سکتے ہیں۔پھر ضروری نہیں کہ ان سکولوں میں احمدیوں کے بچے اور بچیاں ہی پڑھیں غیر احمدیوں کے بچے اور بچیاں بھی پڑھیں گی۔ان میں سے بعض مالدار بھی ہوں گے اُن سے عطیے لیے جاسکتے ہیں اور سکول نہایت عمدگی کے ساتھ بغیر کسی بوجھ کے جو جماعت پر پڑے فیسوں اور عطیوں سے چل سکتے ہیں۔ضرورت صرف کوشش اور محنت کی ہے۔جماعت اگر کوشش کرے تو اس کے لیے یہ کام کرنا کچھ مشکل نہیں۔وہ وقت قریب آرہا ہے کہ جماعت کا مرکز دوسری جگہ بنالیا جائے اس لیے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ میں لاہور کی جماعت کو توجہ دلاؤں کہ جن رستوں سے کسی جماعت کی ترقی ہوتی ہے اُن رستوں سے گزرے بغیر ہم بھی ترقی نہیں کر سکتے۔صرف نام رکھ لینے سے کوئی جماعت نہیں ہے بڑھتی۔جماعت کی عورتوں کا یہ مطالبہ ایک جائز مطالبہ ہے۔اگر جماعت کا اپنا ز نانہ سکول نہ ہو تو وہ ہے اپنی لڑکیوں کی صحیح پرورش نہیں کر سکتیں۔ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ یہ زمانہ ایسا ہے کہ بچیاں ہم سے زیادہ ہے