خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 60

خطبات محمود 60 60 $1949 جرات نہ کی کہ میں نہیں ڈرا اُسے کون زندہ کہہ سکتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے غیرت دلانے کے لیے بار بار انعامی اشتہارات شائع فرمائے۔یہاں تک کہ ان انعامات کو ایک ہزار سے لے کر چار ہزار روپیہ تک پہنچا دیا اور لکھا کہ اگر تمہارے دل میں ندامت پیدا نہیں ہے ہوئی اور تم نے اپنے پہلے رویہ سے تو بہ نہیں کی تو آب مؤکد بعذاب حلف اٹھا کر اس کا اعلان کروالی اور مجھ سے انعام میں چار ہزار روپیہ لے لو۔مگر اُس نے آپ کے اشتہارات میں سے کسی ایک اشتہار کا بھی جواب نہ دیا۔پس وہ مر چکا تھا، اس کے اندر زندگی کا کوئی سانس نہیں تھا اور نادان تھے وہ لوگ جو اُسے زندہ سمجھتے تھے۔اس لیے چاچڑاں والوں نے کہا تمہیں زندہ نظر آتا ہو گا مجھے تو اُس کی لاش اپنے سامنے نظر آتی ہے۔اس طرح سلسلہ کی ترقی اور اس کی عظمت کے متعلق ہمارا ایمان ہونا چاہیے۔اگر ہماری جماعت پر کوئی ابتلا ایسا آتا ہے جس سے بظاہر جماعت کو ایک دھکا لگتا ہے، اس کا شیرازہ پراگندہ ہو جاتا ہے، اس کے اموال و املاک کا ضیاع ہوتا ہے تب بھی ہمارا فرض ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے یہ کہے کہ جماعت گر رہی ہے تو ہم اُسے کہیں تم جھوٹ بولتے ہو۔جب خدا نے کہا ہے کہ وہ ہمارے سلسلہ کو ترقی دے گا تو جو کچھ خدا نے کہا وہی ٹھیک ہے۔اب بھی ہمارے سلسلہ کی ترقی ہی ہو رہی ہے۔جب تک یہ رنگ ہمارے اندر پیدا نہیں ہو گا اُس وقت تک ہمارا ایمان کا دعوی بالکل بے حقیقت اور عبث چیز ہو گا۔اگر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہے تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ بھال کر پہلے کیوں نہ پیشگوئیاں کیں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے جب دعوای فرمایا تھا اُس وقت ہم نے اپنی آنکھوں سے تمام حالات دیکھ کر احمدیت کی کے مستقبل کے متعلق کوئی پیشگوئی کیوں نہ کر لی۔اگر اُس وقت ہم اپنی آنکھوں سے کام لیتے تو یہی کہتے کہ یہ شخص جو ایک ایسے گاؤں میں بیٹھا ہے جہاں نہ ریل آتی ہے نہ تار آتی ہے، نہ لوگوں کی آمد و رفت کا کوئی سامان ہے نہ متمدن دنیا سے اس کا کوئی تعلق ہے اور دعوی یہ کرتا ہے کہ میں مامور ہوں۔یہ پانچ سات سال میں ہی نعوذ باللہ ذلیل اور نا کام ہو کر مر جائے گا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اگر ہم نے دیکھا ہے تو اپنی آنکھوں سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی آنکھوں سے دیکھا ہے اور یہی ہمارے ایمان کی اصل بنیاد ہے۔اسی طرح سلسلہ کی آئندہ ترقی ہم