خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 59

خطبات محمود 59 59 * 1949 ہے۔شہد کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ فِيْهِ شِفَاء لِلنَّاسِ۔2 اس میں لوگوں کے لیے شفاء رکھی گئی۔جب خدا نے اسے شفاء قرار دیا ہے تو اس کے بعد بھی اگر تیرے بھائی کے دستوں کو آرام نہیں آیا تو میں تو یہی سمجھوں گا کہ تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹ بولتا ہے خدا تعالیٰ نے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل درست ہے۔دیکھو بظاہر یہ بات کتنی عجیب معلوم ہوتی ہے لیکن ایمان کا کیسا عظیم الشان مظاہرہ ہے۔اسے دست آ رہے ہیں، بیمار شکایت کرتا ہے کہ میرے دست بڑھ گئے ہیں، تیماردار کہہ رہے ہیں کہ دستوں کی تکلیف زیادہ ہو گئی ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کا پیٹ جھوٹ بولتا ہے۔خدا نے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل سچ ہے۔ہمارے زمانہ کا بھی ایک واقعہ بالکل اسی قسم کا ہے۔خواجہ غلام فرید صاحب چشتی چاچڑاں شریف والے جو بہاولپور کے نواب صاحب کے پیر تھے ایک دفعہ دربار میں بیٹھے تھے کہ آتھم کی پیشگوئی کا ذکر آ گیا۔آتھم کی پیشگوئی کا وقت گزر چکا تھا۔عیسائی ہنسی اُڑا رہے تھے اور بعض نادان مسلمان بھی اپنی بیوقوفی کی وجہ سے عیسائیوں کے ساتھ مل کر اس پیشگوئی پر ہنسی اُڑاتے تھے۔دربار لگا ہوا تھا، نواب صاحب بیٹھے تھے کہ درباریوں میں سے بعض نے اس پیشگوئی کا ذکر کیا اور پھر مذاق کرنے شروع کر دیئے کہ مرزا صاحب نے یوں کہا تھا مگر ہوا اس طرح۔کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد نواب صاحب نے بھی ہنسی میں حصہ لینا شروع کر دیا اور انہوں نے بھی اس پیشگوئی کے متعلق تمسخر آمیز رنگ میں گفتگو شروع کر دی۔اس پر میاں غلام فرید صاحب رحمۃ اللہ علیہ سجادہ نشین چاچڑاں کو سخت غصہ آیا اور وہ نواب صاحب سے کہنے لگے آپ کو شرم نہیں آتی کہ آپ ایک عیسائی کی تائید میں بات کرتے ہیں اور جو شخص اسلام کی طرف سے مدافعت کے لیے کھڑا ہوا تھا اُس کی تحقیر کرتے ہیں!! پھر وہ اور زیادہ جوش میں آگئے اور کہنے لگے کون کہتا ہے کہ آتھم زندہ ہے؟ مجھے تو وہ مُردہ نظر آتا ہے اور میں تو اُس کی لاش اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔حالانکہ وہ بظاہر اُس وقت زندہ تھا اور مرا ہوا نہیں تھا۔مگر انہوں نے کہا جب خدا نے کہا ہے کہ وہ مر گیا ہے تو تمہیں اگر وہ زندہ نظر آتا ہے تو تمہاری آنکھیں جھوٹی ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ جس شخص کا دل ڈر گیا، جس نے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراضات کرنے سے توبہ کر لی، جس نے متواتر چیلنج دینے کے باوجود ایک دفعہ بھی یہ کہنے کی