خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 61

* 1949 61 خطبات محمود پنی آنکھوں سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔بے شک ہماری جماعت پر ایک بہت بڑا ابتلاء آیا ہے، بے شک ہمیں نظر آتا ہے کہ جماعت اپنے مرکز سے نکال دی گئی، غیر مسلموں نے اس پر قبضہ کر لیا، قادیان میں رہنے والوں کو محصور کر لیا گیا، ان کی جائیدادیں چھین لی گئیں اور سلسلہ کے ادارے بند کر دیئے گئے۔یہ سب کچھ نظر آتا ہے مگر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان تمام حالات کو دیکھنے کے باوجود یہ کہتے چلے جائیں کہ وہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ قادیان پر انڈین یونین کا قبضہ ہے۔وہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ قادیان پر سکھوں کا قبضہ ہے۔وہاں ہمارا ہی قبضہ ہے۔زمین مل جائے گی آسمان نمل جائے گا مگر ہمارا قبضہ اس مقام سے کبھی نہیں ملے گا کیونکہ ہم نے قادیان کی ترقی کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا بلکہ خدا تعالیٰ کی آنکھوں سے دیکھا ہے اور خدا تعالیٰ نے یہی کہا ہے کہ وہاں ہمارا ہی قبضہ رہے گا۔اس طرح کہنے والے کہیں گے کہ ربوہ میں کون آئے گا؟ ہم کہتے ہیں اور کوئی نہ آئے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے آئیں گے اور ہم ان فرشتوں کے لیے یہ عمارتیں بنوار ہے ہیں۔کہنے والے کہیں گے کہ کون آئے گا؟ ہم کہتے ہیں خدا آئے گا اور وہ اس زمین کو اپنی اے برکت سے بھر دے گا اور یقیناً ہر مومن اپنے اس فرض کو سمجھتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس پر عائد ہوتا ہے اپنے چندوں اور قربانیوں میں بڑھتا چلا جائے گا۔بے شک وہ لوگ بھی ہوں گے جو کہیں گے کہ تم اپنے مال کو ضائع کر رہے ہو مگر در حقیقت تم اپنے مال کو ضائع کرنے والے نہیں ہو گے۔تم ایک بیج بو رہے ہو گے، تم اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کی ترقی کے لیے ایک کھیتی تیار کر رہے ہو تے گے۔آخر میں وہ لوگ جو تم پر ہنسی اڑانے والے ہیں فاقوں سے مر رہے ہوں گے اور تم جنہیں یہ کہا جاتا ہے کہ اپنا مال ضائع کر رہے ہو تم کھیتوں سے غلہ بھر بھر کر اپنے گھروں میں لا رہے ہو گے۔وہ غلہ جو تمہاری خوشحالی کا بھی موجب ہوگا اور دنیا کے امن اور اس کی آسائش کا بھی موجب ہو گا۔پس جماعت کو قربانی کے مواقع پر اپنے اردگرد کے حالات اور دنیا کے تغیرات سے خائف نہیں ہونا چاہیے۔اگر واقع میں تم نے خدا کے لیے اس سلسلہ کو قبول کیا ہے تو کیا خدا نے اس سلسلہ کی ترقی کا وعدہ کرتے وقت جھوٹ بولا تھا ؟ اُس نے جو کچھ کہا تھا سچ کہا تھا۔تمہارے دل میں اگر س کے متعلق کوئی شبہ پیدا ہوتا ہے تو کیوں تم وہی کچھ نہیں کہتے جو چاچڑاں شریف کے بزرگ۔