خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 364

* 1949 364 خطبات محمود غیر احمدی بھی میل میل کے فاصلہ سے آئے تھے۔ساتھ والے گھر سے نکل کر یا پاس کی گلی سے آ کر دوسروں کو طعنہ دے دینا کوئی مشکل امر نہیں ہوتا۔اگر وہ غیر احمدی میل میل کے فاصلہ سے وہاں آتے تو ان کا حق تھا کہ وہ کہتے ہم آگئے ہیں لیکن احمدی نہیں آئے۔لیکن اگر وہ اسی گلی کے رہنے والے تھے تو لکھنے والے کو سمجھ لینا چاہیے تھا کہ انہوں نے منافقت کی ہے۔انہوں نے تمہاری جماعت پر حملہ کیا ہے۔تم نے اگر اس پر دل میں گرہ باندھ لی ہے تو یہ تمہاری غلطی ہے۔بھلا قریب کے مکان میں رہنے ہے والوں کا حق ہی کیا ہے کہ وہ احمدی افراد کو جنازہ کی خدمات ادا نہ کرنے کا طعنہ دیں۔اگر وہ سارے غیر احمدی دو دو، چار چار میل کے فاصلہ سے آتے اور طعنے دیتے تو میں سمجھ لیتا کہ عقلی طور پر اس میں کچھ صداقت ہے۔دراصل یہ بھی ایک شیطانی طریق ہوتا ہے۔جب کسی شخص کو کوئی صدمہ پہنچتا ہے یا کسی کو ترقی ملتی ہے تو شیطان اس موقع کو خاص طور پر فتنہ کے لیے چن لیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک جنگ کے موقع پر کچھ ایسے صحابی پیچھے رہ گئے جنہیں پیچھے نہیں رہنا چاہیے تھا۔وہ استطاعت رکھتے تھے لیکن باوجود استطاعت کے وہ پیچھے رہ گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب واپس تشریف لائے تو منافقوں کے لیے خدا تعالیٰ کا یہ حکم تھا کہ انہیں نگا کرو۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ سے واپس آتے ہی یہ اعلان کیا کہ جولوگ جنگ میں شامل نہیں ہوئے وہ آئیں اور وجہ بتا ئیں کہ وہ کیوں جہاد پر نہیں گئے۔چنانچہ ی منافق آئے اور انہوں نے عذر پیش کرنے شروع کیے۔ان لوگوں کے لیے مشکل ہی کیا تھی۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر جھوٹ بول دیا اور کہ دیا یہ بات تھی وہ بات تھی جس کی کی وجہ سے ہم جنگ میں شریک نہیں ہو سکے۔آپ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ہمارا یہ قصور معاف کر دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھتے تھے کہ یہ لوگ منافق ہیں لیکن پھر بھی آپ ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگتے ہی کہ اے اللہ! تو ان کی اصلاح کر۔اور وہ چلے جاتے۔جب ایک مومن جنہوں نے غفلت سے کام لیا تھا ڈیوڑھی پر پہنچے تو انہوں نے دریافت کیا کہ کیا لوگ آنے شروع ہو گئے ہیں؟ انہیں بتایا گیا کہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں فلاں عذر تھا جس کی وجہ سے ہم جنگ میں شامل نہیں ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کر دیتے ہیں اور بات ختم ہو جاتی ہے۔وہ صحابی فرماتے ہیں میرے نفس نے کہا یہ تو آسان نسخہ ہے۔میں بھی عذر پیش کر دیتا ہوں اور دعا