خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 365

* 1949 365 خطبات محمود کے لیے عرض کر دیتا ہوں۔لیکن پھر خیال آیا کہ پہلے یہ پوچھ لوں کہ یہ کون کون لوگ تھے۔اس پر میں نے دریافت کیا تو مجھے ان کے نام بتائے گئے۔یہ سب لوگ منافق تھے۔صرف ایک مومن کا ذکر کیا گیا مگران کے بارہ میں بتایا گیا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کیا۔یا رسول الله ! میں گنہگار ہوں اور سزا کا مستحق ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھا تم چلے جاؤ تمہارے متعلق بعد میں فیصلہ کیا جائے گا۔وہ صحابی فرماتے ہیں جب میں نے یہ سنا تو اپنے ملامت کی کہ تو تو منافقوں والا کام کرنے لگا تھا۔وہ فرماتے ہیں اس کے بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں فی الواقع گنہگار ہوں اس لیے سزا کا مستحق ہوں۔آپ نے فرمایا اچھا چلے جاؤ۔تمہارے متعلق بعد میں فیصلہ ہوگا۔یہ تین آدمی تھے جنہوں نے اپنے جرم کا اقرار کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالآخر خدا تعالیٰ کے حکم کے ما تحت ان تینوں کو مقاطعہ کی سزادی اور غیر معین مقاطعہ کی سزادی۔یہ سزا ایسے شہر میں دی گئی جس میں قریباً سارے کے سارے مسلمان تھے۔وہ مقاطعہ آجکل کے مقاطعہ کی طرح نہیں تھا۔آجکل اگر دس کی احمدیوں کے ساتھ مقاطعہ ہوتا ہے تو دس ہزار غیر احمدیوں کے ساتھ اس کا مقاطعہ نہیں ہوتا اور وہ ان کی سے باتیں کرتا رہتا ہے۔لیکن وہاں سارا مدینہ مسلمان تھا۔کچھ دنوں کے بعد آپ نے فرمایا ان لوگوں کی کے بیوی بچے بھی ان سے کلام نہ کریں۔چنانچہ ان کے بیوی بچوں نے بھی ان سے بول چال بند کر لی۔پھر فرمایا ان کے بیوی بچے ان سے کوئی تعلق نہ رکھیں۔وہ صحابی کہتے ہیں اُس وقت مجھے معلوم ہوا کہ ہم میں سے ایک بوڑھے صحابی کی بیوی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول الله ! میرا خاوند بوڑھا ہے اور جب سے آپ نے اسے سزا دی ہے وہ تو روتا رہتا ہے۔اس کا یہاں کوئی رشتہ دار بھی نہیں۔آپ کے حکم کی اطاعت میں میں دوسری جگہ چلی تو جاؤں گی مگر اسے کھانا وغیرہ دینے والا کوئی نہیں ، وہ بھوکا مر جائے گا۔آپ نے فرمایا اچھا تم اسے کھانا دے دیا کرو۔مگر اس کے علاوہ کوئی ہے تعلق نہ رکھو۔وہ صحابی کہتے ہیں جب میں نے یہ بات سنی تو خیال کیا میں بھی ایسا کروں مگر پھر خیال آیا کہ وہ تو بوڑھا ہے۔میں تو بوڑھا نہیں ہوں۔یہ بھی نفس کا دھوکا ہے۔چنانچہ میں نے اپنی بیوی کو اُس کے میکے بھجوا دیا۔اس کے بعد دن کے بعد دن گزرتے گئے اور سزا کی تلخی بڑھتی گئی۔وہ صحابی کہتے ہیں میرے ایک گہرے دوست تھے جو میرے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہونے کے علاوہ میرے رشتہ دار بھی تھے۔اُن سے میری بھائیوں سے بھی زیادہ محبت تھی۔وہ میرے راز دار تھے اور جانتے تھے کہ مجھ میں