خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 363

* 1949 363 خطبات محمود سب کے سب پہنچ جائیں درست نہیں۔ہاں! اگر یہ انتظام کر دیا جائے کہ ہفتہ میں فلاں دن اگر کوئی جنازہ باہر کا ہو تو فلاں حلقہ کے دوست اس کا انتظام کریں، فلاں دن کوئی جنازہ ہو تو فلاں حلقہ کے دوست اس کا انتظام کریں تو ایک حد تک سہولت پیدا ہوسکتی ہے۔لاہور میں بھائی دروازہ کے علاقہ میں جماعت کافی مقدار میں پائی جاتی ہے باقی حصوں میں تین تین، چار چار حلقے آپس میں مل کر جنازہ کی خدمات ادا کرنے کا انتظام کر سکتے ہیں۔اگر ایسا انتظام کر دیا جائے تو وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کے کسی رشتہ دار کے فوت ہو جانے پر جنازہ میں سارے شہر کی جماعت کو شامل ہونا چاہیے ان کے خیالات بھی درست ہو جائیں گے اور اس ذریعہ سے جنازہ کا انتظام بھی ہو جائے گا اور کسی کو شکایت کی کرنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔بہر حال میں دوستوں کو نصیحت کروں گا کہ صرف انہی کے حقوق دوسروں پر نہیں بلکہ دوسروں کے حقوق بھی ان پر ہیں۔جب تک وہ اس قاعدہ کو یاد نہ رکھیں گے وہ اپنے ساتھیوں کی ہمدردی کو حاصل نہیں کر سکیں گے۔جیسے قرآن کریم میں خدا تعالیٰ مرد اور عورت کے حقوق کو بیان کرتا ہے۔جب خدا تعالیٰ نے مرد کے عورت پر حقوق کو اس قدر بیان کیا کہ اس سے انسان سمجھنے لگا کہ گویا مرد پر عورت کو کوئی حق ہی مانی نہیں تو اس نے ساتھ ہی کہہ دیا کہ عورت کے بھی مرد پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے کہ مرد کے عورت پر -1 اور تو اور ہم تو خدا تعالی کو بھی دیکھتے ہیں کہ وہ اگر کہتا ہے تم نمازیں پڑھ تو خود بھی بندے کے لیے روزی کے سامان مہیا کرتا ہے۔وہ اگر کہتا ہے کہ مجھے یاد کرو تو ساتھ ہی کہتا ہے میں تمہیں یاد کروں گا-2 حالانکہ وہ خالق ہے مالک ہے۔اگر وہ کہہ دیتا کہ تم مجھے سارا دن یاد کیا کرو لیکن میں تمہیں کسی وقت بھی یاد نہیں کروں گا تو اس کا حق تھا۔لیکن اُس نے کہا تم اگر مجھے یاد کرو گے تو میں تمہیں یاد کروں گا۔اسی ہے طرح ہر وہ فعل جسے انسان فرض سمجھ کر کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کے مقابلہ میں انسان کے لیے کچھ نہ کچھ کرتا ہے ہے۔دراصل یہ نقص اس لیے پیدا ہو جاتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو چودھری سمجھنے لگ جاتے ہیں اور وہ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ دوسروں پر تو اُن کے حقوق ہیں لیکن ان پر کسی کا حق نہیں۔باقی اس خط میں لکھنے والے نے بعض غلطیاں بھی کی ہیں۔مثلاً اس نے لکھا ہے کہ غیر احمد یوں نے مجھے طعنہ دیا کہ دیکھو! احمدی جنازہ کی خدمات ادا کرنے کے لیے نہیں آئے۔اس خط میں اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ احمدی دوست ایک ایک میل پر رہتے ہیں۔اسے یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ کیا وہ