خطبات محمود (جلد 30) — Page 288
$1949 288 خطبات محمود بیماریاں اس وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں کہ لڑکوں کی خوراک کا خیال نہیں رکھا جاتا۔اس میں کبھی تو غفلت کا دخل ہوتا ہے اور کبھی عدم علم کی وجہ سے خوراک کا خیال نہیں رکھا جاتا۔مثلاً جب ہم بچے تھے اور اس کے زمانہ میں چونکہ خوراک کی قدرو قیمت کا لوگوں کو صحیح علم نہیں تھا اس لیے عدم علم کی وجہ سے ہماری غذا میں بعض نقائص رہ جاتے تھے۔مثلاً مجھے یاد نہیں کہ ہمیں با قاعدہ ناشتہ ملا ہو۔دودھ گھر میں ہوتا تھا جس کے کا دل چاہا اس نے پی لیا۔سکول سے پہلے کھانے کا انتظام نہیں ہوتا تھا۔سکول سے وقت بچا کر کھانے تھے کے لیے آجاتے تھے جس کے معنے ہیں کہ بے قاعدہ کھانا کھانا پڑتا تھا۔اب یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ہماری مائیں نَعُوذُ بِاللهِ ہماری دشمن تھیں۔انہیں ہم سب سے محبت بھی تھی، پیار بھی تھا۔وہ ہمارے لیے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لیے بھی تیار رہتی تھیں لیکن چونکہ انہیں علم نہیں تھا کہ ناشتہ ایک ضروری چیز ہے اور کھانا وقت پر کھانا ضروری ہے انہوں نے نہ ناشتہ کا خاص خیال رکھا اور نہ صبح سکول جانے سے پہلے کھانے کا انتظام کیا۔بہر حال خوراک کا اعصاب پر نہایت گہرا اثر پڑتا ہے۔یورپین لوگ بڑی بڑی ہے مشکلات کے باوجود اپنے حوصلے بلند رکھتے ہیں کیونکہ بچپن سے ہی انہیں اچھی اور وقت پر خوراک ملتی ہے ہے لیکن ہمارے ملک کے لوگ بہت جلد اپنا حوصلہ ہار دیتے ہیں۔ان کا حوصلہ ہارنا اخلاق کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ ان کے جسم میں اتنی طاقت ہی نہیں ہوتی کہ وہ حوادث اور آفات کا مقابلہ کر سکیں۔پس بچوں کی خوراک کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے کہ انہیں اچھی سے اچھی غذا میتر آسکے۔میں نے دیکھا ہے گھر میں کھانے کا انتظام ہوتا ہے تو آدھی رقم میں نہایت اعلیٰ درجے کا کھانا تیار ہو جاتا ہے۔میرے بعض بچے اس وقت بورڈنگ میں رہتے ہیں اور ان کے ماہوار اخراجات کا مجھے علم ہے۔وہی منافق جس نے یہ لکھا تھا کہ پرنسپل تو ایک عیسائی بھی رکھا جاسکتا ہے اُسی نے یہ بھی لکھا تھا کہ تمہارے اپنے دولڑ کے دوسرے کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور تم دوسروں سے یہ کہتے ہو کہ اپنے بچوں کو تعلیم الاسلام کالج میں داخل کرو۔میں اس کا بھی جواب دے دیتا ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میرے دولڑ کے اور کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک لڑکا وہ تعلیم حاصل کر رہا تھا جو تعلیم الاسلام کالج میں ہے ہی نہیں۔وہ ڈاکٹری کے لیے تیاری کر رہا تھا اور یہ تعلیم ایسی ہے جس کا ہمارے کالج میں کوئی انتظام نہیں۔دوسر الڑ کا بہت پہلے سے اُس کالج میں داخل