خطبات محمود (جلد 30) — Page 287
$1949 287 خطبات محمود تعلیم الاسلام کالج کے عملہ کو بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔میرے نزدیک انہیں اپنے نتائج اس سے بھی بہتر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔آخر قربانی ایک طرف سے نہیں ہوتی بلکہ دونوں طرف سے ہوتی ہے ہے۔ہم جو اپنے عزیزوں اور جماعت کے دوستوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو تعلیم الاسلام کالج میں داخل کراؤ تو لازمی طور پر اس کے نتیجہ میں ان کے دل کے گوشوں سے بھی یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ اگر ہم سے قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو آپ لوگوں کا بھی فرض ہے کہ ہمارے لیے قربانی ہے کریں۔اگر پرنسپل اور کالج کے پروفیسر لڑکوں کے ساتھ محبت اور پیار کا تعلق رکھتے ہیں اور ان کی تعلیم کو اعلیٰ معیار تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے اخلاق کی نگرانی رکھتے ہیں، ان کی صحت کو درست رکھنے کی تدابیر اختیار کرتے ہیں، ان کے اندر ذہانت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ماں باپ اور لڑکوں دونوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ صرف ہم نے ہی قربانی نہیں کی بلکہ یہ لوگ بھی ہمارے لیے قربانی کر رہے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت میں ذاتی طور پر جماعت کو مخاطب کر کے تحریک کر رہا ہوں کہ وہ کالج کی طرف توجہ کریں اور اپنے لڑکوں کو اس میں تعلیم کے لیے بھجوائیں مگر بہر حال میں یہ آواز انہی کی طرف سے اٹھا رہا ہوں۔میں تو کالج کا پرنسپل نہیں نہ پروفیسر یا مینیجر ہوں۔میں جو آواز اٹھا رہا ہوں وہ انہی کی طرف سے اٹھا رہا ہوں۔اور جب میں دوستوں کو تحریک کرتا ہے ہوں کہ وہ اس کا لج میں اپنے لڑکے بھجوائیں تو در حقیقت میں ایک رنگ میں ان کی زبان بن جاتا ہوں اور ان کی طرف سے جماعت کے دوستوں کو یہ کہتا ہوں کہ تم کالج کے لیے قربانی کرو اور اپنے لڑکوں کو اس میں داخل کرو۔اور جب میں دوسروں کو قربانی کے لیے کہتا ہوں تو ان لوگوں کا بھی حق ہے کہ وہ آپ سے یہ پوچھیں کہ آپ ہمارے لیے کیا قربانی کر رہے ہیں۔اور چونکہ یہ ایک جائز مطالبہ ہے جو ان کی طرف سے ہوسکتا ہے اس لیے کالج کے پرنسپل اور پروفیسروں کو چاہیے کہ وہ دوسروں سے زیادہ وقت کالج کی ترقی اور لڑکوں کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے صرف کرنے کی عادت ڈالیں اور ان لالی کو زیادہ سے زیادہ دینی احکام کا پابند اور اخلاق فاضلہ سے متصف بنائیں۔خصوصاً لڑکوں کی خوراک کی کی طرف زیادہ توجہ رکھنی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ انہیں اچھی اور عمدہ غذا میسر آئے۔میں کچھ عرصہ سے مختلف کتب کے مطالعہ کے نتیجہ میں اور کچھ اپنی صحت کو دیکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بچوں کی خوراک کا خیال نہ رکھنا اور ان کے لیے صحیح اور اعلیٰ درجہ کی غذا مہیا نہ کرنا ایک بہت بڑا ظلم ہے۔کئی