خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 289

* 1949 289 خطبات محمود تھا اور وہ بھی چونکہ ڈاکٹری کلاس میں داخل ہوا تھا اس لیے تعلیم الاسلام کالج میں داخل نہ ہو سکا۔بہر حال دولڑ کے بعض دوسرے کالجوں میں پڑھ رہے ہیں اور ان کا خرچ خوراک ستر روپیہ ماہوار ہے۔ہمارے گھر میں زیادہ سے زیادہ 35 روپیہ کے قریب ایک آدمی کا خرچ بنتا ہے اور اس میں ہم بہتر سے بہتر خوراک استعمال کر رہے ہیں۔مگر میں نہیں سمجھتا کہ ان کا کھانا ہمارے کھانے سے زیادہ اچھا ہوتا ہی ہو۔یہ خرچ بھی لاہور مسافرانہ زندگی کی وجہ سے ہوا ہے۔ورنہ قادیان میں تو پندرہ سولہ روپیہ ماہوار خرچ ہوتا تھا۔اس سے پہلے دس روپیہ ماہوار ہوا کرتا تھا۔آخر میں جب ہم وہاں سے چلے ہیں تو اس کی وقت ہیں روپیہ کے قریب خرچ ہوتا تھا۔لیکن یہاں کالج میں ستر روپیہ فی لڑکا خوراک پر خرچ کیا جاتا ہے۔کسی زمانہ میں یہ حالت تھی کہ کہا جائے کہ فلاں شخص ستر رو پید اپنی خوراک پر خرچ کر رہا ہے تو لوگ کہتے بڑالاٹ صاحب ہے مگر آج ہر کالج کا طالبعلم یہ خرچ ادا کر رہا ہے۔لیکن اس خرچ کے باوجود میں سمجھتا ہوں انہیں وہ خوراک نہیں مل رہی جو اتنے روپیہ میں انہیں ملنی چاہیے۔تعلیم الاسلام کا لج والے دیانتداری سے کام لیں تو اس سے کم روپیہ میں ان کے ماہوار اخراجات خوراک کو پورا کیا جاسکتا ہے۔میرے نزدیک پروفیسروں کا فرض ہے کہ وہ تمام اخراجات پر کڑی نگرانی رکھیں اور کسی قسم کا ناجائز خرج الاول نہ ہونے دیں۔میں نے دیکھا ہے اگر پھلکے پکانے والے کی ہی نگرانی کرو تو ستر فیصدی آٹے میں گزارہ ہو جاتا ہے اور اگر نگرانی چھوڑ دو تو سو فیصدی آٹا خرچ ہو جاتا ہے۔اسی طرح گوشت وغیرہ کے متعلق احتیاط کی جاسکتی ہے۔اگر وہ توجہ کریں تو اس خرچ کو یقیناً کم کیا جا سکتا ہے مگر خرچ کم کرنے کے یہ معنے نہیں کہ لڑکوں کی صحت کو تباہ کیا جائے۔ان کی صحت کو خراب کرنے کی تمہیں اجازت نہیں۔میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تھوڑے روپیہ سے بہتر سے بہتر کھانا ان کو مہیا کرو اور انہیں اچھی غذا دو تا کہ ان می کے دماغ اور اعصاب کو طاقت حاصل ہو اور وہ اپنی قوم کے لیے مفید وجود ثابت ہوں۔اسی طرح دینیات کی تعلیم کی طرف انہیں خاص طور پر توجہ کرنی چاہیے۔اگر دینی باتیں سننے کا لڑکوں کو زیادہ موقع ملے تو یہ لازمی بات ہے کہ ان کے اندر دینی روح بھی ترقی کرے گی اور اگر کم موقع ملے تو دینی روح کی ترقی میں بھی کمی واقع ہو جائے گی۔مجھے افسوس ہے کہ اس طرف کا لج کے عملہ کو پوری توجہ نہیں۔مثلاً لڑکوں کے اندر صحیح دینی جذبہ پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مرکز سے وابستہ ہوں۔اور مرکز سے وابستگی پیدا کرنے کے جہاں اور کئی طریق ہیں وہاں ایک یہ بھی طریق ہے کہ کی۔