خطبات محمود (جلد 30) — Page 158
* 1949 158 خطبات محمود گے۔یہی حال پنجابی اور سندھی کا ہے۔جو شخص یہاں رہتا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ وہ یہاں رہتے ہوئے اس علاقہ کی زبان نہیں بول سکتا۔وہ یہاں کی عادات اور رسوم سے واقف نہیں ہے۔لا زمانی ایک سندھی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ سمجھے کہ ایسا انسان متکبر ہے اور وہ سندھیوں سے نفرت کرتا ہے۔اس علاقہ کی زبان نہ سیکھنے کی وجہ سے ہمیں یہ وقت بھی پیش آسکتی ہے کہ جب ہم ٹوٹی پھوٹی زبان میں سندھیوں کو تبلیغ کریں گے تو وہ ہماری بات کا الٹ مفہوم سمجھیں گے اور اس کا کچھ کا کچھ مطلب لے لیں گے۔ذوق کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ دہلی کے قلعہ میں گئے۔وہاں ایک انگریز کرنیل تھا۔ذوق سے کسی نے کہا کہ یہ کرنیل اردو خوب جانتا ہے۔ذوق نے کہا کہ یہ اردو نہیں جانتا۔اس کرنیل سے جب پوچھا گیا کہ آیا آپ اردو جانتے ہیں؟ تو اُس نے جواب دیا میں خوب جانتا ہوں۔ذوق نے کہا میں ایک شعر پڑھتا ہوں آپ اس کا مطلب بیان کر دیں۔وہ شعر یہ تھا ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے اس انگریز کرنیل نے کہا اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم لوگ تم لوگ میر لوگ سب کو والا عالی (بالوں کی لٹوں کی طرف اشارہ کر کے) میں باندھ کر جیل میں بھیج دیا۔اسی طرح تم بھی اگر تھوڑی والی بہت سندھی بول لیتے ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم نے سندھی زبان سیکھ لی۔تمہیں یہ حق حاصل ہے کہ تم اس علاقہ کے رہنے والوں کو اردو کی طرف لے آؤ اور اسی میں پاکستان کا بھی فائدہ ہے۔تم ان پر وعظ ونصیحت کے ذریعہ اردو زبان کی اہمیت واضح کرو۔مگر تمہارا یہ حق نہیں کہ تم یہاں ہو اور پھر اس علاقہ کی زبان نہ سیکھو۔پس آپ لوگوں کو چاہیے کہ سندھی زبان اچھی طرح سیکھیں ورنہ ای معمولی طور پر سندھی زبان سیکھنے اور بولنے سے کچھ نہیں بنے گا اور تم اسی انگریز کی طرح ہو گے جس نے شعر کا اس طرح ترجمہ کیا تھا کہ ہم لوگ تم لوگ، میر لوگ سب کو یہ والا میں باندھ کر جیل میں بھیج دیا۔اس قسم کی زبان سیکھنے سے کیا فائدہ۔مجھے احمد آباد اسٹیٹ کا ایک لطیفہ یاد آ گیا۔شروع شروع میں جب ہم نے سندھ میں زمین خریدی تو اس میں صدرانجمن کا بھی حصہ تھا اور کچھ چھوٹے چھوٹے حصے ہمارے تھے۔بعد میں زمین کو تقسیم کر لیا گیا۔محمود آباد اسٹیٹ میرے حصہ میں آگئی اور احمد آباد اسٹیٹ صدرانجمن کے پاس