خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 159

* 1949 159 خطبات محمود چلی گئی۔اس زمین میں میرا، میاں بشیر احمد صاحب اور چودھری فتح محمد صاحب کا حصہ تھا۔ہم جب ی سندھ آتے تو آنے سے پہلے ہم یہ فیصلہ کر لیتے تھے کہ ہر حصہ دار کا نمائندہ ساتھ آئے۔میں چونکہ خود حصہ دار تھا اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ صدر انجمن احمدیہ کا نمائندہ میں نہیں ہوسکتا۔صدر انجمن احمدیہ کا کوئی اور نمائندہ بھیجنا چاہیے تا کہ وہ اپنے حق کے لیے لڑے۔چنانچہ اس سال مولوی عبد المغنی خان صاحب مرحوم صدر انجمن کی طرف سے بطور نمائندہ آئے۔بالعموم ہمارا یہ طریق ہوتا تھا کہ صبح کا ناشتہ کر کے دورہ کے لیے چلے جاتے لیکن چونکہ ناشتہ کے بعد دھوپ تیز ہو جاتی تھی اور دورہ اچھی طرح نہیں ہوتا تھا اس لیے ایک دن میں نے فیصلہ کیا کہ ہم نماز فجر کے فوراً بعد دورہ کے لیے چلے جائیں گے اور ناشتہ واپس آکر کر لیں گے۔چنانچہ میں نماز کے بعد باہر آ گیا۔باہر ایک چارپائی بچھی ہوئی تھی۔میں اُس پر بیٹھ گیا۔مولوی عبد المغنی خاں صاحب بھی میرے سامنے ٹہلنے لگ گئے۔چودھری فتح محمد صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب دونوں غائب تھے۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک ہاتھ میں لوٹا لیے قضائے حاجت کے لیے جا رہا ہے۔میں نے مولوی عبد المغنی خاں صاحب سے کہا کہ وہ تو ابھی قضائے حاجت کے لیے نی جارہے ہیں اور پتا نہیں کب آئیں۔آپ صدر انجمن احمدیہ کے نمائندہ ہیں خود حصہ دار نہیں ہیں لیکن آپ ان سے پہلے آگئے ہیں۔یہ تو ”چور نالوں پنڈ کا ہلی والا معاملہ ہو گیا۔جس کی پنڈ ہے وہ نہیں آیا اور جس کی پنڈ نہیں وہ پہلے آ گیا ہے۔مولوی عبد المغنی خاں صاحب مرحوم کو اُس وقت پنجاب آئے ہوئے ہیں سال کے قریب عرصہ ہو گیا تھا لیکن اتنے لمبے عرصہ میں بھی انہوں نے پنجابی زبان پوری طرح نہیں سیکھی تھی۔میری بات سن کر مولوی صاحب کا رنگ زرد ہو گیا اور انہوں نے سمجھا کہ میں نے انہیں بُرا بھلا کہا ہے۔میں نے مولوی صاحب کے رنگ سے اندازہ لگا لیا کہ انہوں نے میری بات نہیں سمجھی۔چنانچہ میں نے ان سے کہا مولوی صاحب! کیا آپ نے اس فقرہ کا مطلب سمجھا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! کچھ کچھ سمجھ گیا ہوں۔ایک بات تو میں نے یہ بھی ہے کہ میں چور ہوں اور دوسری بات یہ کہ میں کالا ہوں۔اسی طرح ایک اور لفظ بھی حضور نے میرے متعلق بولا ہے اور وہ پنڈ ہے مگر اس کے معنے میں نہیں جانتا۔میں نے کہا مولوی صاحب! اس کا مفہوم یہ نہیں۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ چور نے پنڈ یعنی گھڑی لے کر جانا تھا لیکن چور نے جب پنڈ بنالی اور