خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 157

* 1949 157 خطبات محمود کا لباس نہیں۔میں نے کہا آپ جب ہمارے ملک میں رہتے تھے تو کیا آپ ہمارے ملک کا لباس ہے پہنتے تھے؟ ہمارے ملک کا لباس ہیٹ اور پتلون تو نہیں۔وہ کہنے لگے میں تو وہاں اپنے ملک کا لباس ہی پہنتا تھا۔میں نے کہا آپ جب ہمارے ملک میں ہمارا ملکی لباس استعمال نہیں کرتے تھے تو اس کی کیا وجہ تھی؟ یہی وجہ تھی کہ آپ یہ سمجھتے تھے کہ چونکہ ہم ہندوستان پر حاکم ہیں اس لیے ہے ہندوستانیوں کو ہماری نقل کرنی چاہیے ہمیں اُن کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔سر ڈینی سن راس نے مجبور ہو کر کہا ہاں ! بات تو یہی ہے۔میں نے کہا سر ڈینی سن راس! میں تو غلامی کے لیے تیار نہیں۔اگر آپ ہمارے ملک میں رہتے ہوئے ہمارا لباس نہیں پہنتے تو میں بھی آپ کا لباس پہننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔لیکن زبان لباس سے ایک علیحدہ چیز ہے اور اس کا سیکھنا ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔اگر آپ لوگ دوسروں سے سندھی زبان میں لین دین نہیں کریں گے اور اسے سیکھنے کی کوشش نہیں کریں گے تو سندھی لوگ یہ سمجھیں گے کہ تم اُن سے نفرت کرتے ہو۔فرض کرو ایک سندھی دس بارہ سال تک پنجاب میں رہے اور اتنے عرصہ تک وہ ہماری زبان نہ سیکھ سکے تو سب لوگ اس پر ہنسیں گے اور کہیں گے کہ یہ کم عقل آدمی ہے۔یہ اتنا لمبا عرصہ ہمارے ہاں رہا اور پھر بھی پنجابی زبان نہ سیکھ سکا۔لیکن خود ایک پنجابی یہاں آتا ہے اور اتنے عرصہ تک وہ سندھی زبان نہیں سیکھ سکتا۔ہم تو دس پندرہ دن کے لیے یہاں آتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں اس لیے ہمارے متعلق زبان سیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن جو شخص مستقل طور پر یہاں رہتا ہے اس کا فرض ا ہے کہ وہ اس علاقہ کی زبان سیکھے اور اسی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ہمارے مینیجر ہیں، اکا ؤنٹنٹ ہیں، منشی ہیں ، مزارع ہیں ان سب کا فرض ہے کہ وہ اس علاقہ کی زبان سیکھیں۔اگر وہ اس علاقہ کی زبان نہیں سیکھتے تو وہ اس علاقہ میں رہنے والوں پر کس طرح اپنا اثر ڈال سکتے ہیں؟ سندھی تمہیں کس طرح اپنا بھائی سمجھنے پر مجبور ہوں گے؟ وہ خیال کریں گے کہ تم اپنے آپ کو ان سے بالا اور حاکم خیال کرتے ہو اور اُن کی زبان سیکھنا بہتک خیال کرتے ہو۔جب انگریز ہمارے ملک پر حکومت کرتے تھے ہم اُن سے محبت تو نہیں کرتے تھے۔ہم احمدی تو احمدیت کی وجہ سے یہ سمجھتے تھے کہ ان کی اطاعت کرنی چاہیے۔لیکن باقی ہندوستانی یہ کہتے تھے کہ ہم انہیں مار مار کر باہر نکال دیں