خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 296

1949ء 296 خطبات محمود سارے ہی ہوتے ہیں مگر اولاد کے ناقابل مرد اور بانجھ عورت سے نسل نہیں چلا کرتی۔ وہ وجود اپنی ذات پر ختم ہو جاتا ہے۔ جاری اور زندہ رہنے والی وہ چیز ہوتی ہے جس سے نسل کے چلنے کا امکان ہو۔ مگر کیا اس سے ظاہری نسل مراد ہے؟ ظاہری نسل سے تو وہ لوگ بھی پیدا ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کو گالیاں دیتے ہیں ، ظاہری نسل سے وہ لوگ بھی پیدا ہوتے ہیں جو اس کے رسول سے منہ پھیر لیتے ہیں، جو کتابوں اور الہاموں سے متنفر ہوتے ہیں اور بنی نوع انسان کے لیے عذاب ثابت ہوتے ہیں ۔ ہلا کو خاں وغیرہ بھی اسی نسل میں سے تھے، ابوجہل ، فرعون، نمرود اور شد ادبھی اسی نسل میں سے تھے ۔ اسی میں سے وہ شیاطین بھی تھے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں انبیاء کی مخالفت کی۔ اب ظاہر ہے کہ یہ وہ نسل نہیں جس پر خدا تعالیٰ فخر کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ جس نسل پر فخر کرتا ہے وہ وہ نسل ہے جو روحانی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص ایسی نسل کے پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا وہ صحیح معنوں میں انسان نہیں کہلا سکتا۔ صحیح معنوں میں انسان وہی ہے جو روحانی نسل پیدا کرے اور اپنے پیچھے ایسے وجود چھوڑ جائے جن کے ذریعہ دنیا ہدایت پاتی رہے۔ اگر کوئی ایسا شخص ہے جس کے ذریعہ روحانی نسل پیدا ہوتی ہے تو وہ اپنے فرض کو پورا کر رہا ہے اور وہ کامیاب کہلا سکتا ہے اور نسلِ انسانی کی پیدائش سے اسی انسان کا پیدا کرنا مقصود ہے۔ اگر لوگ ایسی نسل جاری کرتے رہیں تو دنیا پر کیوں بربادی آئے ۔ دنیا پر تباہی و بربادی اُسی وقت آتی ہے جب ظاہری طور پر ایسے وجود پائے جاتے ہوں لیکن باطنی طور پر ان میں وہ خوبیاں نہ پائی جائیں جن کی وجہ سے روحانی نسل قائم رہتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ 4 اے محمد رسول اللہ ! تیرے دشمن کی نرینہ اولا د نہیں حالانکہ واقع یہ تھا کہ آپ کی ظاہری طور پر نرینہ اولاد نہیں تھی اور آپ کے شدید ترین دشمنوں میں قریباً تمام کی نرینہ اولاد تھی۔ ابو جہل کی نرینہ اولا د تھی، عتبہ کی نرینہ اولاد تھی ، شیبہ کی نرینہ اولاد تھی ، عاص کی نرینہ اولاد تھی ۔ یہ آپ کے شدید ترین دشمن تھے اور ان سب کی نرینہ اولاد موجود تھی اور نرینہ اولاد نہیں تھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ لیکن جس شخص کی اولا د نہیں تھی اُسے مخاطب کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ تیری نرینہ اولاد موجود ہے اور جن لوگوں کی نرینہ اولا د موجود تھی انہیں خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ان کی نرینہ اولاد نہیں ہے۔ ان دونوں متقابل بیانات سے صاف پتا چلتا ہے کہ ان میں اسی نکتہ کی طرف اشارہ ہے جس کی