خطبات محمود (جلد 30) — Page 297
* 1949 297 خطبات محمود طرف میں نے ابھی اشارہ کیا ہے۔اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ نے جب یہ فرمایا کہ تیری نرینہ اولاد ہے تو اس سے یہ مراد تھی کہ آپ کی روحانی اولاد ہوگی۔اور دشمن کے متعلق جب کہا کہ ان کی نرینہ اولاد نہیں ہوگی تو اس سے مراد یہ تھی کہ ان کی روحانی اولاد نہیں ہوگی۔چنانچہ حضرت عکرمہ کو دیکھ لو۔حضرت عکرمہ ابو جہل کے بیٹے تھے۔ابوجہل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ نرینہ اولاد نہ ہونے کا طعنہ دینے والا تھا۔جیسے پنجابی میں کہا کرتے ہیں اونتر انکھتر ا۔اسی طرح وہ کہا کرتا تھا کہ آپ نَعُوذُ بِاللهِ اونترے نکھرے ہیں۔ان کا کیا ہے مر جائیں گے تو یہ سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔اسی ابو جہل کا بیٹا موجود تھا۔وہ آخری وقت تک مخالفت کرتا رہا اور جب فتح مکہ ہوئی تو وہ ملکہ سے بھاگ گیا اور اس نے کہا کہ میں اب یہاں نہیں رہوں گا بلکہ کسی اور ملک میں چلا جاؤں گا۔حضرت عکرمہ کی بیوی دل سے مسلمان تھی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! آپ کا عفو بہت بڑا ہے۔اگر آپ کا ایک دشمن آپ کے زیر سایہ پرورش پا جائے تو کیا حرج ہے؟ شاید خدا تعالیٰ اسے ہدایت دے دے۔آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔اس نے کہا کیا آپ اجازت دیں گے کہ عکرمہ اسی ملک کی میں رہے اور آپ کے زیر سایہ زندگی بسر کرے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے کہا لیکن وہ تو دشمن ہے اور میں جانتی ہوں کہ وہ یہ پسند نہیں کرے گا کہ اسلام لے آئے۔کیا آپ اسے کفر کی حالت میں ہی یہاں رہنے دیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے پھر کہا کیا میں عکرمہ سے کہوں کہ وہ اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے مکہ میں رہ سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔عکرمہ مکہ سے بھاگ کر سمندر کے کنارے پہنچ چکا تھا۔بیوی اپنے خاوند کی محبت کی وجہ سے تیسرے دن وہاں پہنچی۔عکرمہ کشتی میں سوار ہونے والا تھا کہ وہ وہاں پہنچی۔اس نے کہا تم مکہ میں رہنا پسند نہیں کرتے۔تم کہتے ہو کہ جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت ہے وہاں میں نہیں رہوں گا۔لیکن جن کی وجہ سے تم مکہ میں رہنا پسند نہیں کرتے اُن کا یہ حال ہے کہ جب میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ عکرمہ کو مکہ میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا ہاں۔میں نے کہا وہ آپ کا شدید ترین دشمن ہے اور یہ میں جانتی ہوں کہ وہ اسلام نہیں لائے گا ، وہ کافر ہونے کی حالت میں ہی مرے گا۔کیا آپ اسے اس صورت میں بھی یہاں رہنے کی اجازت ہے دیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔وہ تو اتنی مہربانی کرتے ہیں اور تم ان کے زیر سایہ ملکہ میں رہنا بھی پسند نہیں کرتے۔عکرمہ نے کہا کیا یہ سچ ہے؟ اس کی بیوی نے کہا ہاں۔عکرمہ نے کہا چلو۔میں خود یہ بات کی