خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 286

$ 1949 286 خطبات محمود بات پر زیادہ اعتبار کرو گے یا یونیورسٹی کے نتائج پر زیادہ اعتبار کرو گے۔یونیورسٹی کا نتیجہ بتا رہا ہے کہ ا ہمارے کالج کی ہر کلاس کا نتیجہ یونیورسٹی کی اوسط سے اوپر رہا ہے۔ایک کا نتیجہ 90 فیصدی کے قریب رہا ہے اور دوسری کلاسوں کا نتیجہ یونیورسٹی کی اوسط سے اوپر رہا ہے اور یہ ایک نہایت ہی خوشکن بات ہے؟ مگر پھر بھی بعض لوگ ان حقائق پر غور کرنے کی بجائے لڑکوں کی بات پر کان رکھنے کے زیادہ عادی ہوتے ہیں۔ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی سادہ لوح آدمی تھا جس کی طبیعت میں شرم اور حیا کا مادہ بہت غالب تھا۔اس نے ایک گدھا خریدا۔عربوں میں گدھے رکھنے کا عام رواج یا تھا اور وہ اس سے سواری اور بار برداری کا کام لیا کرتے تھے۔جب اس کے دوستوں کو پتا لگا کہ اس نے گدھا خریدا ہے تو وہ روزانہ اس کے پاس آتے اور گدھا مانگ کر لے جاتے۔اس طرح مہینہ ای دو مہینے گزر گئے اور وہ ایک دن بھی گدھا اپنی ذاتی ضروریات کے لیے استعمال نہ کر سکا۔ہر وقت وہ دوسروں کے پاس ہی رہتا۔آخر تنگ آکر اس نے فیصلہ کیا کہ اب میں کسی کو گدھا نہیں دوں گا۔مگر ادھر طبیعت میں نرمی بھی تھی اور انکار بھی نہیں کر سکتا تھا۔ایک دن اس کے پاس کوئی دوست آیا اور اس کے گھر کے باہر سے آواز دے کر کہا بھائی صاحب! مجھے گدھا چاہیے اگر آپ دے دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔اس نے چونکہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اب میں کسی کو گدھا نہیں دوں گا اس لیے اس نے مکان کی چھت پر سے ہی اسے جواب دیا کہ آپ کی بات کو میں رڈ تو نہیں کر سکتا تھا مگر فلاں دوست آئے تھے اور وہ مجھے سے گدھا مانگ کر لے گئے اس لیے میں آپ کے مطالبہ کو پورا کرنے سے قاصر ہوں۔ادھر اس نے یہ بات کہی اور اُدھر گھر کے صحن سے گدھے نے چیخنا شروع کر دیا۔اس کی آواز سن کر دوست کہنے لگا عجیب بات ہے گھر سے گدھے کے چیخنے کی آواز آرہی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں گدھا کوئی دوست لے گیا ہے۔وہ کہنے لگا آپ بھی عجیب آدمی ہیں کہ میری بات پر اعتبار نہیں کرتے اور گدھے کی بات پر اعتبار کر رہے ہیں۔یہ ہے تو لطیفہ مگر ان لوگوں کی حالت بالکل ایسی ہی ہے۔وہ یونیورسٹی کی بات پر اعتبار نہیں کرتے اور اپنے بچے کی بات پر اعتبار کر لیتے ہیں۔پس میں دوستوں کو خواہ وہ مقامی ہوں یا بیرونی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہوں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تعلیم الاسلام کالج میں اپنے لڑکوں کو داخل کرنے کی کوشش کریں۔مگر اس کے ساتھ ہی میں