خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 285

* 1949 285 خطبات محمود اس نے لڑکے کو فیل کر دیا۔میں نے کہا میں یہ مان نہیں سکتا کہ ایک احمدی استاد اس قسم کی کمبینہ حرکت کرے۔یہ تو میں مانتا ہوں کہ سارے احمدی نیک نہیں مگر جو مثال میرے سامنے پیش کی گئی ہے وہ ایسی سایت ہے کہ میرا دل نہیں مانتا کہ کوئی احمدی ایسی حرکت کر سکے۔انہوں نے کہا آپ بیشک تحقیق کر لیں۔لڑکے کو بلا وجہ فیل کیا گیا ہے حالانکہ وہ بہت لائق اور ہوشیار تھا۔میں نے کہا اچھا میں آپ کی خاطر سکول سے پرچہ پہ منگواتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کیا بات ہے۔مگر آپ پہلے وعدہ کریں کہ اگر یہ بات غلط ہوئی تو آپ لڑکے کو سخت سزا دیں گے۔انہوں نے وعدہ کیا اور میں نے ہیڈ ماسٹر کو رقعہ لکھا کہ اگر چہ قاعدہ کی رو سے ایسا نہیں چاہیے مگر جماعتی نظام کی خاطر میں چاہتا ہوں کہ آپ فلاں لڑکے کا عربی کا پرچہ میرے پاس بھجوا دیں کیونکہ میرے پاس شکایت کی گئی ہے کہ اسے بلا وجہ فیل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے پرچہ بھجوا دیا۔پرچہ آیا تو میں نے دیکھا کہ متحن نے اسے اڑھائی نمبر دیے ہوئے تھے مگر جب میں نے پرچے کو کھول کر دیکھا تو میں اس استاد کی عقل پر حیران ہوا جس نے اسے اڑھائی نمبر دیئے تھے کیونکہ میرے نزدیک وہ اڑھائی نمبروں کا مستحق نہیں تھا صرف صفر کا مستحق تھا۔چنانچہ میں نے اس لڑکے کے باپ کو لکھا کہ میں اس استاد کی عقل پر حیران ہوں جس نے اس لڑکے کو سو میں سے اڑھائی نمبر دے دیئے ہیں۔میرے نزدیک تو یہ صفر کا مستحق تھا۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ استاد کو شرم آئی کہ صفر نمبر کیا دینا ہے چلو اڑھائی نمبر ہی دے دیں۔انہوں نے جواب دیا کہ مجھے کیا پتا تھا کہ میرے لڑکے نے مجھے اس طرح دھوکا دیا ہے۔میں تو یہی سمجھتا رہا کہ وہ جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے۔بہر حال جب ایک طرف بالغ، عاقل اور سمجھدار اساتذہ ہوں اور دوسری طرف نا تجربہ کار بچہ ہوتو عقلمند انسان کا یہی کام ہوتا ہے کہ وہ مقابلہ کے وقت اپنے بچے کو غلطی پر سمجھے اساتذہ کو بد دیانت اور نالائق قرار نہ دے۔بعض دفعہ لڑکے اسی بات کو دیکھ کر کہ سینما دیکھنے پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں یا نمازوں وغیرہ کی سختی سے پابندی کرائی جاتی ہے کالج کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں اور یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ پروفیسر لڑکوں کو پڑھاتے نہیں وہ سارا دن ادھر ادھر پھرتے رہتے ہیں۔اور جب یہ بات باپ سنتا ہے تو کہتا ہے اچھا! میرے بچہ پر یہ یہ مصیبتیں آرہی ہیں اور پھر وہ کوشش کرتا ہے کہ اسے کسی اور کالج میں داخل کرا دے۔میرے نزدیک ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اس قسم کی باتوں میں نہ آئیں اور اپنی عقل اور سمجھ سے کام لیں۔آخر یہ موٹی بات ہے کہ تم اپنے بچوں کی ھے