خطبات محمود (جلد 30) — Page 230
1949ء 230 خطبات محمود آج اس سلسلہ میں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے اور ان چاروں کے متعلق یہ قید لگا دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور پھر اس اللہ کے لیے ہیں جو رب العلمین ہے۔ گویا اپنی ذات میں ان چاروں چیزوں میں سے ہر چیز کے ساتھ دو قیود لگ گئیں ۔ پہلی قید تو قربانیوں کے ساتھ یہ لگائی گئی ہے کہ وہ کسی دکھاوے یا جلب منفعت 2 کے لیے نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی خاطر ہیں۔ اور دوسری قید یہ لگائی گئی ہے کہ میری قربانیاں اُس اللہ تعالیٰ کی خاطر ہیں جس کی صفت ربوبیت کو سامنے رکھ کر میں یہ قربانیاں کر رہا ہوں ۔ اگر یہاں صرف لِلهِ کہا جاتا تب بھی درست تھا لیکن رب العلمین ساتھ لگا کر یہ بتانا مقصود ر یہ بتانا مقصود ہے کہ جس طرح وہ ذات ح وہ ذات جس کے لیے میں عبادت کر رہا ہوں رب العلمین ہے اسی طرح اُس کے واسطہ سے میری یہ قربانیاں بھی ساری مخلوق پر پھیلی ہوئی ہیں ۔ صفت کو اسم کے ساتھ بھی لگاتے ہیں جب خصوصیت سے اُس طرف توجہ دلانا مقصود ہو۔ مثلاً اگر ہم کہیں کہ زید جو بڑا عالم ہے وہ ایسا کہتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ زید معتبر تو ہے لیکن میری اس بات کا اُس کے علم کے ساتھ تعلق ہے اور وہ علاوہ با اعتبار ہونے کے عالم بھی ہے۔ گویا زید کے عالم ہونے کی صفت کو بیان کر کے خصوصیت سے اس کے علم کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ زید با اعتبار اور ثقہ ہو لیکن اس کی علمی واقفیت زیادہ نہ ہو۔ مگر جب یہ دونوں صفات کسی شخص میں اکٹھی ہو جائیں تو پھر سونے پر سہاگا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کے ساتھ رب العلمین کی صفت لگا دینے سے ایک تیسرے معنے نکل آئے۔ یہ فقرہ کہ میری قربانیاں اللہ تعالیٰ کی خاطر ہیں خود اپنی ذات میں معنے رکھتا ہے۔ لیکن رب العلمین کی صفت بیان کر کے یہ بتایا کہ اس وقت خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت میرے مد نظر ہے اور جس طرح وہ سب جہانوں کا رب ہے اسی طرح میری قربانیاں بھی سارے جہانوں پر اور سب مخلوقات پر پھیلی ہوئی ہیں ۔ گویا اس آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ میری قربانیاں خدا تعالیٰ کے لیے ہی ہیں اور اس کا سچا اور خالص پرستار ہونے کی وجہ سے جس طرح وہ سب جہانوں کا رب ہے اُسی طرح میں بھی سب مخلوقات اور سب جہانوں کا ہو گیا ہوں اور میری قربانیاں ساری دنیا کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ آج میں ان چاروں چیزوں میں سے صرف صلوۃ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ اس ا