خطبات محمود (جلد 30) — Page 132
1949ء 132 خطبات محمود ساری بیرونی دنیا میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اس وقت اگر کوئی جماعت غالب آسکتی ہے تو وہ جماعت احمد یہ ہے اور اِدھر وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے تو اُن کی مثال آٹے میں نمک کی طرح ہے۔ گاؤں کے گاؤں نہ صرف احمدیت سے خالی ہیں بلکہ وہ احمدیت کے نام سے بھی آشنا نہیں ۔ دنیا کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں احمدی نہیں پائے جاتے۔ وہ دیکھتا ہے کہ باوجود تعداد میں کم ہونے اور کمزور ہونے کے جماعت کو عظمت حاصل ہے۔ اس قسم کے متواتر خیالات آنے کے بعد وہ خیال کر لیتا ہے کہ وہ جیت گئے یا اُنہوں نے پانسہ مار لیا۔ لیکن جب وہی معقولیت سے دیکھنے والا شخص یہ دیکھتا ہے کہ ہم میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں، ہم میں غفلت پائی جاتی ہے، وہ تنظیم اور وہ دہ تنظیم اور وہ قربانی اور ایثار جماعت میں نہیں پایا جاتا جو جیتنے والی قوموں میں ہوا کرتا ہے۔ جیتنے والی قوموں کے افراد کو اگر تنظیم کے لیے اپنے بچوں کی قربانی کی بھی ضرورت پڑتی ہے تو وہ کرتے چلے جائیں گے۔ اپنی قوم کو بڑھانے اور اس کو اونچالے جانے کے لیے ہر قسم کے ایثار سے کام لیتے ہیں۔ جب یہ شخص یہ دیکھتا ہے کہ ابھی اس قسم کی چیزیں جماعت میں پیدا نہیں ہوئیں تو وہ اس شبہ میں پڑ جاتا ہے کہ کیا یہ ایک پھول تھا جو خوبصورت تو تھا لیکن وہ تھا پھول جس نے درخت کی عمر نہیں پائی۔ گلاب کی شکل آم سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہے، وہ برگد 1 سے زیادہ خوشبودار ہوتا ہے لیکن پھول پھول ہی ہوتا ہے وہ درخت نہیں کہلا سکتا۔ جہاں تک خوشبو، نزاکت اور لطافت کا تعلق ہے گلاب کا پودا، برگر، آم اور انگور سے بہت اچھا ہے۔ لیکن جہاں تک مضبوطی اور زیادہ عمر پانے کا تعلق ہے آم کا درخت تین چار سو سال اور انگور اور برگد کے درخت پندرہ سولہ سو سال تک عمر پا جاتے ہیں لیکن گلاب کا پودا چند موسم پھول دے کر ختم ہو جاتا ہے۔ جب وہ ان باتوں پر غور کرتا ہے تو اس کی رائے بدل جاتی ہے۔ مگر ایک مومن جو عقل کی نگاہ سے نہیں خدا تعالیٰ کی نگاہ سے دیکھتا ہے یہ سمجھتا ہے کہ نہ اس نے پہلے کوئی کام کیا ہے، نہ اس نے اب کرنا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے وہ خود کرے گا۔ پہاڑ ، ستارے اور دوسری چیزیں جو دنیا میں نظر آتی ہیں وہ کب ہم نے بنائی ہیں؟ کتنے تغیرات ہیں جن میں ہمارا ہاتھ نہیں تھا لیکن وہ واقع ہوئے۔ ان کے سامنے اس کی کچھ بھی نسبت نہیں۔ یہ آپ ہی آپ ہو جائے گا اور خدا تعالیٰ اسے مکمل کرے گا۔ غرض خواہ تقدیر الہی پر ایمان لانے والا دیوانہ ہو یا معقول فلسفی وہ یقین رکھتا ہے کہ یہ کام خدا تعالیٰ ہی کرے گا۔