خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 133

خطبات محمود 133 $1949 بعض فرقے ایسے ہیں جو بنیادی طور پر یہ تعلیم دیتے ہیں کہ سب کام خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے انسان کا ان کاموں میں ہاتھ نہیں ہوتا۔لیکن بعض فرقے ایسے ہیں جو بنیادی طور پر یہ تعلیم دیتے ہیں کہ بے شک ہر کام خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کام اُس وقت کرتا ہے جب اس کے ساتھ تم بھی وہ کام کرو۔جب بندے وہ کام نہیں کرتے تو اس کی مدد رک جاتی ہے اور خدا تعالیٰ ان کی کو مٹا کر ایک دوسری قوم کھڑی کر دیتا ہے جو اُس کام کو بجا لاتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الہی تقدیر دنیا میں دو طریقوں سے جاری ہے۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بندے جب خدا تعالیٰ کے ساتھ نہیں چلتے تو خدا تعالیٰ اپنی مدد روک لیتا ہے جیسا کہ فرمایا إِنَّ اللهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُخَيَّرُ وا مَا بِأَنْفُسِهِمْ 2 خدا تعالیٰ کسی قوم کو تباہ نہیں کرتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو تباہ نہیں کرتی، جب تک وہ اپنا ہاتھ خدا تعالیٰ کی تائید میں ہلاتی رہتی ہے وہ بچی رہتی ہے لیکن جب وہ خدا تعالی کی تائید میں اپنا ہاتھ ہلانے سے رُک جاتی ہے خدا تعالیٰ بھی اپنے ہاتھ کو روک لیتا ہے اور اس قوم کو تباہ کر دیتا ہے۔اُس کا دوسرا قانون یہ ہے کہ بعض حالتوں میں اگر انسان خدا تعالیٰ کا کام کرنے سے رُک جاتا ہے تو وہ یہ نہیں کرتا کہ اپنی مدد کو روک لے اور مذہب کو تباہ کر دے بلکہ وہ یوں کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کام سے رُک جانے والی قوم سے اپنی مدد کو روک لیتا ہے اور اُس کی جگہ دوسری قوم کھڑی کر دیتا ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اُس کام کو بجالاتی ہے۔گویا خدا تعالیٰ کا دوسرا قانون یہ ہے کہ جب کوئی قوم ایک کام سے اپنے ہاتھ کو روک لیتی ہے تو وہ اُس کے افراد کو تباہ کر دیتا ہے اور دوسری قوم کھڑی کر دیتا ہے۔یہ سنت زندہ مذہبوں کے متعلق ہے۔پس احمدیت کے بارہ میں ہم یہ نتیجہ تو نہیں نکال سکتے کہ کوئی کام ہمارے کرنے کے بغیر آپ ہی آپ ہو جائے گا۔ہمیں وہی نتیجہ نکالنا پڑے گا جو قرآن کریم نے نکالا ہے یعنی اگر تم سستی کرو گے تو وہ تم کو تباہ کر کے کوئی دوسری قوم تمہاری جگہ کھڑی کر دے گا۔انسانوں کے ذمہ بعض دفعہ ایسا کام لگا دیا جاتا ہے جس کے متعلق فیصلہ ہوتا ہے کہ وہ ضرور ہوگا۔غرض اس کام کے پورا کرنے میں انسان کا دخل نہیں ہوتا۔لیکن اس کے پورا کرنے میں جو اُس کا حصہ ہوتا ہے اُس کا چھوٹا یا بڑا ہونے میں اُس کا دخل ہوتا ہے۔پس جہاں تک کہ افراد کے رتبہ، عزت اور برکات