خطبات محمود (جلد 30) — Page 131
* 1949 131 خطبات محمود رہیں گے اور اگر طبیعت اچھی رہی تو کچھ کام کر لیں گے۔اس کے بعد میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ دنیا بھر میں ہر جگہ پر ایک انقلاب آ رہا ہے۔بعض جگہوں پر کم ہے اور بعض جگہوں پر زیادہ مگر آضرور رہا ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ کوئی نہ کوئی تغیر آسمان پر مقدر ہو چکا ہے۔مذہبی لوگ اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے والے لوگ یہ سمجھتے اور یقین کی رکھتے ہیں کہ یہ تغیر آخر مذہب کے حق میں ہوگا اور پھر مذہب تمام دنیا پر غالب آجائے گا۔لیکن جو لوگ مذہبی نہیں اور جو مذہب پر یقین نہیں رکھتے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ انقلاب ایک دن مذہب کو اُکھاڑ کر پھینک دے گا اور تمام دنیا پر ایک قسم کی اشتراکیت غالب آجائے گی جو باقی تمام نظاموں کو بدل دے گی۔ہماری جماعت ان جماعتوں میں سے ہے جو خدا تعالیٰ کے نظام کے دوبارہ دنیا میں قائم ہونے کی قائل ہے۔ہم دنیا کے سامنے یہ پیش کرتے ہیں کہ بعض ایسی پیشگویاں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے اتباع کے ذریعہ پھر تمام دنیا پر غالب آجائے گا۔یہ چیز کسی وقت تو دنیا کی نظروں میں شاندار نظر آتی تھی اور کسی کسی وقت دنیا کی نگاہوں ناکام نظر آتی تھی۔خود اپنی جدو جہد کو دیکھ کر متضاد خیالات پیدا ہو جاتے ہیں۔جب تک کوئی شخص اندھا دھند یقین نہ رکھتا ہو متضاد خیالات کا پیدا ہو جانا ممکن ہے۔لیکن جو شخص عقل سے کام کی لینے کا عادی ہے، جو شخص سوچنے کا عادی ہے وہ دو حالتوں میں سے ایک حالت میں سے ضرور گزرتا ہے۔بعض دفعہ وہ کسی چیز کو دیکھ کر جوش میں آجاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کے بارہ میں جو پیشگوئی ہے کی گئی تھی وہ پوری ہوگئی۔مثلاً وہ دیکھتا ہے کہ تنظیم کے بدلہ میں 1947ء میں قادیان فسادات سے محفوظ رہا۔جماعت نے دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے عزت سے قادیان چھوڑا اور جماعت کا ایک حصہ اب بھی وہاں بیٹھا ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ جب پنجاب کی کوئی جگہ ہندوؤں اور سکھوں سے محفوظ نہ رہ سکی تھی قادیان محفوظ رہا یا۔جب وہ ان رپورٹوں کو پڑھتا ہے جو بیرونی ممالک سے ہمارے مبلغین بھیجتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو بڑا بھاری سمجھتا ہے۔مثلاً وہ دیکھتا ہے کہ جرمنی، فرانس، انگلینڈ اور دیگر یورپین ممالک کے لوگ ہماری تعلیم سُن کر اس کے قائل ہو رہے ہیں اور عیسائیت سے تو بہ کر کے اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔جب وہ دیکھتا ہے کہ کیا عرب، کیا ایران، کیا افغانستان