خطبات محمود (جلد 30) — Page 94
$ 1949 94 خطبات محمود میری ایک لڑکی کے ابھی بچہ پیدا ہوا تھا، اس کی تھوڑا ہی عرصہ ہوا شادی ہوئی تھی اور ایک سال کے اندر ہی اس کے بچہ پیدا ہوا تھا، ان کی ماں وفات پا چکی تھی وہ میرے پاس رخصت ہونے کے لیے آئی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا خاموش رہو یہ وقت رونے کا نہیں بلکہ یہ وقت کام کا ہے۔چنانچہ میں نے اس عہد کو ختی سے نبھایا ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا تھا میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا مگر میں سمجھتا ہوں کہ جب میں ایک عزم کر چکا ہوں تو میں اس عزم کو آنسوؤں کے ساتھ کیوں مشتبہ کر دوں؟ ہم اپنے آنسوؤں کو روکیں گے یہاں تک کہ ہم قادیان کو واپس لے لیں۔چاہے صلح کے ساتھ ہمیں قادیان ملے چاہے جنگ کے ساتھ ہمیں قادیان ملے۔بہر حال ہم نے اسے واپس لینا ہے۔میں تھوڑے دن ہوئے کشمیر کے محاذ پر فرقان فورس دیکھنے گیا۔فرقان فورس والوں نے میرے کھانے کا انتظام کیا ہوا تھا۔میں جب وہاں گیا تو ایک جگہ پر ہاتھ دُھلانے کے لیے دو چھوٹے لڑکے کھڑے تھے۔مجھے بڑا تعجب تھا کہ جس جگہ جاتے ہوئے بڑی عمر والے اور پختہ کار لوگ ہچکچاتے ہیں وہاں یہ چھوٹی عمر کے دونوں بچے آئے ہوئے ہیں اور خوشی سے اپنی ڈیوٹی کو نبھارہے ہیں۔وہ دونوں ہاتھ دُھلانے کے لیے وہاں کھڑے تھے۔چھوٹی عمر میں اتنی بڑی قربانی کرنے کی وجہ سے مجھے ان کا یہ فعل پیارا لگا اور نادانی اور غفلت میں میں نے سوال کیا کہ تم کہاں ہے سے آئے ہو؟ میں نے خیال کیا کہ وہ کہیں گے کہ ہم گجرات سے آئے ہیں ، جہلم سے آئے ہیں، راولپنڈی سے آئے ہیں یا سیالکوٹ سے آئے ہیں۔میں ان سے کوئی دوسرا جواب سننے کے لیے تیار نہیں لیکن میں نے جب یہ سوال کیا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ تو ان دونوں لڑکوں نے بے اختیار کہا ہم قادیان سے آئے ہیں۔مجھے یہ جواب سننے کی امید نہ تھی۔اس لیے مجھے اپنی حالت کو سنبھالنے کے لیے بہت زیادہ جد وجہد کی ضرورت پڑی۔میرے ساتھ اُس وقت رضا کاروں کے نمائندے بھی تھے اور بعض دوسرے افسر بھی۔میں نے زور سے اپنی زبان دانتوں میں دبالی۔میں نے ایسا محسوس کیا کہ اگر میں اپنے آپ کو نہیں روکوں گا تو میری چیخیں نکل جائیں گی۔کئی غیر احمدی مالی بھی اُس وقت مجھ سے ملنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔میں نے اُن سے کوئی بات نہیں کی اور میں بات کر ہی نہیں سکا تھا۔انہوں نے شاید یہ سمجھا ہوگا کہ میں بہت مغرور ہوں اور اُن کے ساتھ بات